امرود نہ کھانے کی شرط پر طلاق کا حکم
اگر امرود نہیں کھاؤ گی تو تم کو طلاق سے طلاق کب واقع ہوگی ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی بیوی ہندہ سے کہا کہ تم امرود مت کھاؤ اس لئے کہ بچہ کو سردی ہو جاتی ہے اور بچہ بیمار ہو جاتا ہے۔ ہندہ نے جواب دیا کہ میں امرود کھاؤں گی ، کھاؤں گی ، کھاؤں گی ۔ اس پر زید نے غصہ میں کہا کہ تم خوب امرود کھاؤ اگر نہیں کھاؤ گی تو تم کو طلاق ۔ ہندہ نے یہ سمجھا کہ اگر امرود کھاؤں گی تو مجھ کو طلاق کہا ہے۔ اس لئے اس روز ہندہ نے امرود نہیں کھایا۔ دوسرے دن جب زید نے حلفیہ اپنا بیان دیا کہ میں نے یہ کہا ہے کہ تم اگر امر و نہیں کھاؤ گی تو تم کو طلاق ، اس کے بعد ہندہ نے امرود کھالیا۔ واضح ہو کہ اس سے پہلے زیدا اپنی بیوی ہندہ کو دو طلاق رجعی دے چکا ہے۔ لہذا گزارش ہے کہ شرعی فیصلہ سے آگاہ فرمائیں۔ واضح ہو کہ امرود کھانے کے وقوع کو قریب ایک سال گزر چکا ہے۔ زید کے اس جملہ کے بعد ہندہ اپنے میکے چلی گئی اور تین ماہ تک زید سے الگ رہی بعدہ زید کے بھائیوں نے ہندہ کو لے کر زید کے یہاں پہونچایا اور زید کے شامل کر دیا اور بغیر فتویٰ کے زید اور ہندہ شوہر بیوی کی
الجواب: صورت مسئولہ میں ہندہ پر وہ طلاق جو امرود کھانے پر معلق تھی ، واقع ہوگئی اور ہندہ زید پرایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ لہذا جب تک بندہ کو دوسرے صحیح النکاح شوہر سے جماع کے بعد طلاق نہ ہو جائے اور عدت نہ گزر جائے ، زید کو اس سے نکاح حرام قطعی ہے۔ اور ہندہ ، زید پر فوراً علیحدگی اور تو بہ فرض ہے اور جو لوگ زید و ہندہ کے حرام سے راضی ہیں وہ بھی تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ نزیل بنارس / ۱۳ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھ