بیہوشی اور شدید غصے کی حالت میں دی گئی طلاق کے وقوع سے متعلق سوال اور گواہوں کے بیانات
(1) شبراتی صاحب: میں بوقت طلاق وہاں پر موجود تھا، غلام وارث نے اپنی بیوی کو دوطلاق دی اور یہ دو طلاق بھی انہوں نے بیہوشی کے عالم میں دی وہ اور طلاق دینا چاہتا تھا مگر ایک عورت نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور مار پیٹ کر باہر لے آئی ، مرد کو اس کا بھی ہوش نہیں تھا۔ [ انگوٹھے کا نشان شبراتی وارثی ] (۲) بی بی زیتون : میں بوقت طلاق وہاں موجود تھی ، انہوں نے طلاق دی وہ کچھ اور کہنا چاہتے تھے مگر میں نے اپنا ہاتھ ان کے منہ پر رکھ دیا ان کی زبان سے صرف دو مرتبہ لفظ طلاق نکلا، غلام وارث بیہوش اور پاگل کی طرح کر رہے تھے۔ نہ کپڑے کا ہوش، اس نے کئی لوگوں کو مارا پیٹا ، اس کا بھی ان کو کچھ ہوش نہیں ۔ [ انگوٹھے کا نشان زیتون بی بی ] (۳) وحیدن بی بی : میں بوقت طلاق وہاں موجود تھی ۔ غلام وارث بیہوشی کے عالم میں پاگل کی طرح سب کو گالی دے رہا تھا اس دوران انہوں نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق دی، تیسری مرتبہ طلاق دینا چاہتا تھا مگر ایک عورت نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، صرف دو طلاق ہی وہ اپنی بیوی کو دے سکا۔ [ نشان انگوٹھا وحیدن بی بی ] (۴) فریده بانو (غلام وارث کی بیوی): مجھے کوگالی دیتے اور مارتے وقت بالکل پاگل کی طرح کر رہے تھے، اس دوران انہوں نے دومرتبہ مجھ کو طلاق دی میں نے اپنے کان سے صرف دومرتبہ لفظ طلاق سنا۔ [ نشان انگوٹھا فریده بانو ] غلام وارث کے بیانات مختلف ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے اس کو مارا پیٹا ، گالی دی، کچھ ہوش نہیں ،صرف اس قدر یاد ہے کہ میں نے طلاق دی ہے اور تین مرتبہ ہماری زبان سے لفظ طلاق نکلا ہے۔ لہذا گزارش ہے کہ نہایت ہی دلائل واضحہ و براہین قاطعہ اور اسلام کے محکم اصول کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کہ آیا طلاق دو ہوئی یا تین؟ یا بیہوشی کا حکم لگا کر طلاق ہی نہیں مانی جائے گی؟ جیسا کہ قانون شریعت میں در مختار کے حوالہ سے یہ جزئیہ نقل کیا گیا کہ ایسا غصہ جس سے عقل جاتی رہی ،طلاق واقع نہیں ہوئی۔ نہایت ہی واضح طور پر جواب عنایت فرمائیں! المستفتی: محمد اسلم محمد اکرام ۳۲۴، دریا آباد الله آباد، (یوپی)
الجواب: اگر واقعی یہ تحقیق ہو کہ غلام وارث طلاق دیتے وقت پاگل ہو گیا تو اصلا طلاق نہ ہوئی ،مگر غلام وارث اقرار کرتا ہے کہ میں نے تین طلاقیں دی ہیں، اس اقرار سے صاف ظاہر ہے کہ طلاق دینے کے وقت عقل ٹھکانے تھی۔ لہذا تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں۔ اور اس کے اقرار کے ہوتے ہوئے گواہوں کا بیان نامسموع ہے۔ پھر وہ بھی محتمل ہے کہ سب نے یہ بیان کیا کہ غلام وارث نے دومرتبہ طلاق دی اور تیسری مرتبہ طلاق کا لفظ نہ سنا گیا کہ اس کے منہ پر ایک عورت نے ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اس سے تیسری مرتبہ طلاق کی نفی نہیں ہوئی لیکن جبکہ شوہر نے منہ ہی منہ میں طلاق کا لفظ بول دیا ہو اور طلاق ہونے کو یہی کافی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله