بیوی طلاق کی مدعیہ جبکہ شوہر منکر ہے تو طلاق کا کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی منکوحہ بیوی کو طلاق نہیں دی اور بیوی کہتی ہے کہ زید نے میری طلاق دے دی۔ چشم دید گواہ ایک عورت ہے جو کہ زید کی ماں ہے۔ زید کی ماں زید کی بیوی کو پہلے ہی سے نہیں چاہتی ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے جھگڑے کے وقت صرف یہ کہا تھا کہ اگر تو خاموش نہیں ہوئی تو میں تیری طلاق دے دوں گا۔ وہ خاموش نہیں ہوئی پھر دوبارہ زید نے کہا کہ اگر تو خاموش نہیں ہوئی تو خدا اور خدا کے رسول کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا، خاموش ہو گئی ایسی حالت میں از روئے شرع شریف کیا حکم ہے؟ جواب با تفصیل مرحمت فرما یا جاوے۔ فقط! سائل: طفیل احمد قصبه بیری ضلع بریلی
الجواب: زید جبکہ طلاق کا منکر ہے تو محض بیوی اور والدہ زید کے بیان سے طلاق کا ثبوت نہ ہوگا بلکہ ثبوت کے لئے ضروری ہے کہ دو مرد عادل یا ایک مرد دو عورتیں عدول شہادت شرعیہ طلاق کی گواہی دیں۔ البتہ زید کی بیوی اگر تین طلاق کی مدعیہ ہے تو اسے لازم ہے کہ شوہر سے دورر ہے اور اس سے ایسی بھاگے جیسے شیر سے ، جیسے سانپ سے ۔ واللہ تعالٰی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۸ ؍رجب المرجب ۱۴۰۰ھ بہاء المصطفیٰ قادری