طلاق بائن کے الفاظ اور کورٹ میرج کی شرعی حیثیت اور شادی کے اخراجات کی واپسی کا حکم
رپٹ کیا کہ ہندہ کے باپ نے سات کلو چاندی کے زیورات اور ہندہ کو بیچ ڈالا ہے۔ تب پولیس والے ہندہ اور ہندہ کے باپ کی تلاش میں نکلے۔ ہندہ کے باپ نے تھانہ میں اس کا جواب دیتے ہوئے کورٹ میرج کا ثبوت دے کر جان بچالی۔ زید کی طرف کے لوگ لاگت طلب کرتے ہیں اس طرح سے بھی بہت واقعہ گزرچکے ہیں کہ ہندہ کے باپ سے لاگت لے کر کہتے ہیں کہ طلاق دی لیکن ہندہ کی طرف سے شادی میں دی ہوئی چیزیں واپس نہیں کرتا۔ لہذا آپ سے نہایت ہی عاجزانہ التماس ہے کہ از روئے شرع محمدی ہندہ اور زید پر کیا فتویٰ صادر ہوتا ہے؟ خلاصہ تحریر فرمانے کی زحمت کریں۔ فقط والسلام! راقم الحروف: محمد زاہد خان، مدرسہ دارالعلوم باب النبی کھا نہ پوٹلی، لال جانی ، اے ہار پرتاپ گڑھ
الجواب: فی الواقع زید نے اگر جمل مذکورہ (میرے گھر سے نکل جا، بھاگ جا،سامنے سے ہٹ ،نکل، بھاگ) سے کوئی جملہ بہ نیت طلاق بولا ہو تو ہندہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی اس کے علاوہ جو طلاق زید نے عدت میں دی ہو وہ ہندہ پر واقع ہوگئی اور ہندہ بعد عدت آزاد ہوگئی ، کورٹ میرج میں اگر عقد نکاح کا طریقہ شرعیہ ملحوظ رکھا گیا تو نکاح صحیح ہو گیا اور ہندہ پر الزام نہیں۔ زید البتہ بر نقد یر صدق سوال ظالم، جفا کا رحق اللہ حق زن میں گرفتار ہے، تو بہ کرے۔ لاگت سے کیا مراد ہے، آیا وہ خرچ جو ہندہ پر زید نے اُٹھایا یا زید کا جو شادی میں خرچ ہوا، یا وہ جو زید نے ہندہ کو دیا، پھر دیا تو شادی سے پہلے یا شادی کے بعد اور وہاں دیتے ہیں تو عاریہ یا بطور تملیک دیتے ہیں؟ یا طلاق پر یونہی کچھ روپیہ لینا مراد ہے؟ ہندہ کی طرف سے شادی میں دی ہوئی اشیاء کا حکم بھی انہیں وضاحت پر موقوف ہے کہ وہ اشیاء عاریت دیں یا بطور تملیک دی گئیں ؟ اور اگر عاریت و تملیک کی صراحت نہ تھی تو وہاں کا عرف و دستور کیا ہے؟ مفصل تحریر کریں تو جواب ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۹ رشوال المکرم ۱۴۰۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ