غصہ اور بے ہوشی کی حالت میں دی گئی طلاق کا شرعی حکم
بیان میں کہ: زید ایک معزز و امیر گھرانے کا نوجوان ہے۔ وہ ہر دم اپنے کاروباری دھندا میں سرگرداں رہتا ہے۔ اتفاقاً ایک دن صبح گھر سے باہر نکلا تو چند آدمیوں سے مڈ بھیڑ اور دماغ میں حدت پیدا کر کے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بی بی جو باردار بحالت حمل ہے، اپنے والد صاحب سے بڑی تیزی اور زبان درازی کر رہی ہے۔ اس پر زید نے اپنی بی بی صالحہ کو اپنے سسر کے ساتھ اس طرح بُری حرکت کرتی ہوئی دیکھ کر صالحہ کو بہت مارا پیٹا۔ اس کے بعد صالحہ نے اور زبان درازی تیز کردی۔ اس حالت میں صالحہ کو کسی نے پکڑ کر دوسرے کے گھر میں لے جا کر چھپا دیا اُس کے بعد زید صالحہ کو بہت تلاش کرنے لگا۔ آخر صالحہ کو پایا پھر دوبارہ صالحہ کو مار پیٹ کیا۔ اس کے بعد پھر صالحہ کو چھپا دیا گیا۔ بعد اُس کے زید نے بہت تلاش کیا۔ نہیں ملنے پر زید نے چھپانے والے سے کہا کہ ہماری بیوی صالحہ کو ہم کو دے دو ہم کیا فیصلہ کرتے ہیں تم لوگ دیکھو۔ ہم اور مار پیٹ نہیں کریں گے۔ اس کے بعد صالحہ کو زید کے سامنے لاکر کھڑا کر دیا تو زید نے صالحہ کو حاضر پاکر فوراًزیدا اپنی زبان سے تین طلاق کہہ دیا۔ طلاق کہہ دینے کے بعد اُسی وقت زید اپنے بڑے چچا کو اُن کے گھر سے اپنے گھر بلا کر لایا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی صالحہ کو طلاق دے دی۔ اب صالحہ کو لیجئے اور صالحہ کے لئے جو انتظام سمجھیں، کیجئے ۔ اس سے یہ کہ کر زید اپنے ہوش سے بے ہوش ہو گیا۔ ظاہر رہے کہ اس کا دماغ پہلے سے بھی بو کھلایا ہوا تھا۔ اب اور بھی اس کو غیظ و غضب انتہا درجے میں غالب آیا کہ اس نے اپنی بی بی صالحہ کو طلاق دے دی۔ زید کا بیان ہے کہ مجھے کوئی ہوش وحواس نہ تھا چونکہ اس کا دماغ آگے سے خراب رہتا تھا۔ زید اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ایسا مارا پیٹا یہاں تک کہ سر اس کا زخمی ہو گیا۔ اس سے بھی وہ بے خبری ظاہر کرتا ہے کہ میں نہیں کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنے برادر خور د کوز دوکوب کیا۔ حاضرین و سامعین کا بھی بیان ہے کہ زید بحالت ہوش نہ تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ زید کے سر پر پانی ڈالنا پڑا تب اس کو ہوش آیا۔ کیفیت طلاق کے بارے میں مختلف بیان ہے۔ مختلف سامعین سے کوئی کہہ رہا ہے کہ زیدا اپنی بیوی صالحہ کو کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی۔ کسی کا بیان ہے کہ زید اپنی بیوی مذکورہ کو کہا کہ میں نے تجھے تین طلاق دی۔ گویا گواہان کی گواہی مختلف ہے۔ لیکن سب کا اتفاق ہے اور پہلے سے بھی اتفاق میں یہی تھا۔ کہ زید بحالت ہوش و حواس قائم نہ تھا کہ لوگوں نے سر پر پانی ڈال کر ہوش میں لایا اب زید اور صالح ایک دوسرے سے
مندرجہ بالا بیان سے ظاہر کہ طلاق دیتے وقت زید ہوش میں تھا لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور زید کی بیوی اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت ( کہ صورت مسئولہ میں وضع حمل ہے ) دوسرے صحیح النکاح شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت کے بعد چاہے تو پہلے شوہر سے نکاح کرلے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۷ رذی قعدہ ۱۴۰۳ھ