دو طلاق کے بعد تیسری طلاق کے ارادے کے وقت منہ بند کر لینے کا حکم اور ثبوت طلاق کا مسئلہ
۱۳ جمادی الآخر ۱۴۰۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی زوجہ کو دو مرتبہ صاف لفظوں میں طلاق دی۔ تیسری مرتبہ جب وہ کہنے جا رہا تھا تو اس کی والدہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا جس کی وجہ سے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا تو زوجہ نے چند برادری کے سامنے بحلف بیان دیا کہ مجھ کو طلاق دے دی ہے اور زید کہتا ہے حلف کے ساتھ کہ ہم نے طلاق نہیں دی، جو لوگ وہاں پر موجود تھے وہ زید کی والدہ اور اس کے بھائی کی بیوی تھی وہ لوگ انکار کرتے ہیں کہ زید نے طلاق نہیں دی۔ طلاق دینے کے بعد کچھ دنوں تک زوجہ زید کے گھر میں رہی اس درمیان زوجہ نے اپنی بوا سے کہا کہ ہم کو طلاق دے دی ہے۔ اس کی بوانے کہا کہ خبر داراب کسی سے نہ کہنا اس کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ میکے چلی گئی اور اپنی ماں وغیرہ سے کہا کہ مجھ کو طلاق دے دی ہے۔ از راہ کرم جو مسیح مسئلہ ہو، مطلع فرما ئیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
الجواب: از طرف قاضی محمد صدیق، بھرواری زید نے اگر تیسری بار طلاق کے الفاظ منہ سے یوں ادا کر لئے کہ خود سنے تو تیسری طلاق بھی اس کی زوجہ پر واقع ہو کر زوجہ اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ورنہ دوطلاق رجعی واقع ہوئیں مگر طلاق کا ثبوت دو مرد عادل یا ایک مرد و دو عورت عدول کے بیان سے ہوتا ہے۔ نری عورتوں کے بیان سے طلاق ثابت نہ ہوگی۔ عورت اگر تین طلاق کی مدعیہ ہے تو اسے لازم ہے کہ شوہر سے ایسے بھاگے جیسے شیر سے۔اور اسے اپنے اوپر قابو نہ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۴۲ / جمادی الآخر ه ۱۴۰۰ھ دارالافتاء منظر اسلام،محلہ سوداگران، بریلی