زید کے الفاظ 'میرے رجسٹر سے تیرا نام کٹ چکا ہے' سے طلاق کا حکم
زید کی شادی خالدہ سے آج سے تقریباً دس سال قبل ہوئی تھی۔ شادی کے بعد چار سال تک زید و خالدہ کی ازدواجی زندگی خوشگوار، اچھی طرح سے گزری۔ دونوں میاں بیوی راضی خوشی و میل ملاپ سے رہے اور شادی کے پانچویں سال سے لے کر اب تک یعنی چھ سال کے عرصہ میں نہ معلوم ان دونوں میاں بیوی کے درمیان کس بناء پر یعنی کس وجہ سے ان بن ہوگئی ہے جس کی وجہ سے زید نے اپنی بیوی خالدہ کو یہ سب الفاظ کہہ دئے وہ یہ ہیں کہ زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ: ”میری بلا سے، تو کہیں بھی جاسکتی ہے، میرے رجسٹر سے تیرا نام بھی کٹ چکا ہے، تو میرے لائق نہیں اور میں تیرے لائق نہیں ہوں اور یہ مندرجہ بالا الفاظ کئی آدمیوں کے سامنے کہا تو وہ سب آدمی گواہ ہیں تو کیا یہ سب مندرجہ بالا الفاظ کہہ دینے سے طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ اگر طلاق واقع ہو گئی تو اب کسی دوسرے مرد سے خالدہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ یاوہ خود یعنی اپنی زوجیت میں رکھنا چاہے تو خالدہ زید کے پاس رہ سکتی ہے یا نہیں؟ حضور عالی سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مندرجہ بالا سوالوں کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں مدیل و فصل مرحمت فرمائیں!
الجواب: الفاظ مندرجہ سے طلاق واقع نہ ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ شعبان المعظم ۱۴۰۲ھ