مشروط طلاق کی صورت میں شرط پائے جانے پر طلاق واقع ہونے کا حکم
خالد نے اپنی لڑکی کی شادی موضع پنجہ میں کر دی جس کو عرصہ ۶ سال کا ہو گیا۔ عرصہ ۴رسال تک میاں بیوی کے تعلقات اچھے رہے اس کے بعد ہندہ کا شوہر فعل شنیع میں مبتلا ہو گیا ہندہ نے اپنے شوہر کو ہر طرح سمجھا یا مگر وہ اس فعل شنیع سے باز نہیں آیا اور ہندہ کو ہر طرح کی تکلیف دینے لگا۔ ہندہ بہت مجبور اور پریشان ہو گئی۔ ہندہ کے والد ہندہ کے گھر پر گئے تو ہندہ کی تمام حقیقت سے واقف ہوئے تو اپنی لڑکی کو اپنے گھر پر لے آئے قریب ۶ ماہ کے بعد ہندہ کا شوہر رخصت کرانے کے لئے آیا تو ہندہ کے والد نے رخصت نہیں کیا اس کے بعد دوسری مرتبہ آیا جب بھی رخصت نہیں کیا مگر ہندہ نے اپنے شوہر کو بہت سمجھایا اور کہا کہ میں چلنے کو تیار ہوں مگر تم نا جائز کام چھوڑ دو ہندہ کا شوہر کا ایک دوست ہے جس کی بیوی فاحشہ ہے۔ ہندہ نے اس کو اس کے دوست کے یہاں جانے سے منع کیا تو اس نے یہ لفظ استعمال کئے کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا۔ مگر اس کے یہاں جانا نہیں چھوڑوں گا۔ اتنی جد و جہد کے بعد ہندہ کا شوہر اپنے بہنوئی کو ساتھ لے کر رخصت کرانے کے لئے آیا ہندہ کی ذمہ داری لینے کے لئے اس کے بہنوئی نے یہ لفظ گواہان ذیل کے سامنے کہے کہ ہمارے کہنے سے ہندہ کی رُخصت کر دیجئے اب یہ کوئی غلط کام نہیں کریں گے اور یہ شرط رکھی کہ اگر یہ غلط کام کریں گے تو ان کی بہن کی تین طلاق اس کے بعد لڑکی کی رخصتی کرا کے لے گیا مگر وہ اس حرکت سے باز نہیں آیا۔ اس پر پنچایت ہوئی تو لوگوں نے بھی بہت سمجھایا اور اس کے بہنوئی نے بھی وہ ہی لفظ دوبارہ پنچوں کے سامنے استعمال کئے اور کہا کہ میں یہ کہہ کر آیا کہ اس کی بہن کی تین طلاق ہندہ کے شوہر کو سمجھانے کے باوجود بھی ہندہ کو طلاق دے دی۔ ہندہ اپنے میکے چلی آئی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بکر کی بہن کی طلاق از روئے شرع ہوگئی یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب باصواب عطا فرمادیجئے۔ عین نوازش ہوگی۔ بینوا توجروا گواه: بشیر احمد محمد امین و جمیل احمد موضع بھکاری پور ضلع پیلی بھیت سائل: فداحسین، موضع مہادیوا ضلع پیلی بھیت
ب: صورت مسئولہ میں بکر کی بہن پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور وہ اپنے شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عدت گزار کر دوسرے نکاح صحیح کے بعد جماع کرے وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت کو حلال ہوگا کہ عدت کے بعد پہلے سے نکاح کر لے۔ فقط ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی