طلاق بحالت جنوں غیر واقع ہے!
جناب عالی! گزارش یہ ہے کہ میں کسی وجہ سے پاگل ہو گیا تھا اب میں صحیح ہو کر آگیا ہوں۔ میری بیوی جو منکوحہ ہے، اپنے والدین کے یہاں پر رہ رہی ہے اور اس کے گھر والے کہہ رہے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے ایسا نہیں کیا ہے نہ کوئی اس کا گواہ ہے۔ میری بیوی بخوشی میرے پاس آنے کو تیار ہے مگر اس کے گھر والے اس کو نہیں آنے دے رہے ہیں میں نے کسی وقت میں اس کو طلاق نہیں دی ہے۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور میری بیوی کو روکنا جائز ہے؟ امید کہ حکم ہو کہ میری عورت میرے پاس آجائے اور اس کے گھر والے اس کو نہ روکیں ۔ السائل : عبدالبشیر ولد عبداللہ خاں، محلہ رو ہلی ٹولہ، پرانہ شہر، بریلی شریف
الجواب: فی الواقع اگر آپ نے بہ صحت ہوش و حواس طلاق نہیں دی ہے تو آپ کو اپنی بیوی کو رکھنے کا شرعاً اختیار ہے اور طلاق بہ حالت جنوں غیر واقع ہے، ان لوگوں کو لازم ہے کہ وہ حارج نہ ہوں بلکہ بیوی کو آپ کے یہاں جانے دیں، ورنہ سخت گنہ گار مستحق لعنت کردگار ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ