پنچایت کی جانب سے جھوٹی طلاق کی بنیاد پر جرمانہ اور مقاطعہ کے حکم کی شرعی حیثیت
وجہ سے قدرے ناراضگی رہا کرتی تھی جب زید کا سسرا اپنی لڑکی کو میکے لے جانے کی غرض سے زید کے گھر گیا تو زید نے اپنے سر سے شکایت کی کہ آپ کی لڑکی میری اجازت کے بغیر فلاں فلاں صاحبان کے ہاں جاتی ہے اور یہ مجھے بھی منظور نہیں۔ اس پر زید کے سر نے کہا کہ میں اپنی لڑکی کو طوائفوں میں بھی لے جاؤں تو آپ روکنے والے کون ہیں؟ بہر حال جب وہ اپنی لڑکی کو اپنے گھر لے گیا اور اس کو روک لیا جب سسرال والوں سے لانے کو کہا گیا تو زید نے یہ کہا کہ جس طرح میر اسر لے گیا اسی طرح لے آئے ، میں لینے کو نہیں جاتا ، اُدھر اس نے چند جھوٹے گواہ تیار کر کے اپنی لڑکی کی طلاق واقع ہونے کا فتویٰ منگوالیا ہے۔ جب قوم کی پنچایت ہوئی تو پہنچوں نے مذکور فتوی کی بنیاد پر زید کو اس وقت تک جماعت سے باہر کر دیا جب تک زید پانچوں کو پانچ ہزار روپیہ جرمانہ ادا نہ کرے اور لڑکی والوں سے کہہ دیا کہ وہ اپنی لڑکی کا نکاح اپنی منشاء کے مطابق کسی دوسری جگہ پڑھا دیں۔ یہ ہے پوری صورتِ حال جو کافی طول پکڑ چکی ہے۔ آپسی تنازع کا پورا اندیشہ ہے۔ (۲) کیا مذکورہ حالات میں زید کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی؟ (۳) کیا برادری کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی کو جماعت سے باہر کر دے۔ (۴) کیا کسی بھی قسم کا جرمانہ کرنا قوم کے پنچوں کو جائز ہے؟ (۵) جس فرد کو جرمانہ کر کے جماعت سے باہر کیا گیا ہے، کیا اسلام میں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ شخص پنچوں کو یا برادری کو جرمانہ ادا کر کے جماعت میں آئے ؟ امید کہ جواب باصواب اولین فرصت میں عطا فرما کر مشکور فرمائیں گے! سائل: عبدالکریم شاہ نها بازار، میر تا سٹی
الجواب: (۱، ۲) فی الواقع اگر گواہوں نے جھوٹی گواہی دی تو طلاق ثابت نہ ہوئی۔ رہی یہ بات کہ طلاق واقع ہوئی کہ نہیں تو یہ امر گواہوں کے بیان پر موقوف نہیں بلکہ زید کے طلاق دینے ، نہ دینے پر موقوف ہے۔ لہذا فی الواقع اگر زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے تو اس پر ضرور طلاق واقع ہوگئی، جیسی اور جتنی طلاقیں دی ہوں، ویسی اور اتنی طلاقیں واقع ہونے کا حکم ہوگا۔ واللہ تعالی اعلم (۳) بلا وجه شرعی برادری کو یہ اختیار نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جرمانہ مالی منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل حرام کمافی الخانیہ۔ لہذا مالی جرمانہ کرنا حرام بدکام بد انجام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جرمانہ دینا بھی اسے جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ / جمادی الآخره ۱۴۰۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی