گھر سے نکل جاؤ اور فیصلہ دے دیا کہنے سے طلاق کا حکم
گھر سے نکل جاؤ فیصلہ دے دیا کہا تو کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کی طبیعت خراب تھی، اس نے خالد کو بلایا اور کہا کہ ہندہ میری بیوی ہے لیکن بیوی کی طرح خدمت نہیں کرتی ہے اس لئے میں اس کو فیصلہ دے دوں گا۔ خالد نے کہا کہ ایسا نہ کرو آج نہیں تو کل کرنے لگے گی۔ اس گفتگو میں زید کا باپ بھی موجود تھا۔ تھوڑی دیر بعد پھر زید نے کہا میں ہندہ کو فیصلہ دے دوں گا دے دوں گا دے دوں گا۔ اس کے بعد زید کے والد نماز تراویح ادا کرنے چلے گئے ۔ زید بستر علالت سے اُٹھا اور ہندہ کے قریب جا کر کہنے لگا تمہارے لئے اب اس گھر کا کھانا حرام ہو گیا، تم اسی وقت ہمارے گھر سے نکل جاؤ۔ ہندہ زید کے کہنے سے اسی وقت نکل کر میکہ چلی گئی ۔ صبح تک شور ہو گیا کہ زید نے ہندہ کو طلاق دے دی۔ صبح پنچ اکٹھا ہوئے اور زید سے پوچھا کہ کیا تم نے ہندہ کو فیصلہ دے دیا؟ اس کے بعد پینچ اُٹھ گئے اور کہنے لگے کہ فیصلہ ہو گیا، فیصلہ ہو گیا۔ جب یہ گفتگو ہورہی تھی تو ہندہ چہل سے تھی۔ بات چلتی رہی اسی درمیان مولوی صاحب آگئے اور انہوں نے کہا کہ طلاق نہیں ہوئی ۔ تو ہندہ زید کے پاس پہونچی اور روئی تو زید نے اس کو پھر سے رکھ لیا، کیا زید کا رکھنا درست ہے؟ اور اگر آج کوئی زید سے پوچھتا ہے تو کہتا ہے کہ میں نے ہندہ کو طلاق دے دی تھی۔ چھوڑ دیا تھا مگر اس کے بعد وہ ابھی بھی گھر ہے۔ صورت مستفسرہ میں کیا کیا جائے ؟ بینوا وتوجروا المستفتی: عبداللہ ضلع شہر ول،ایم پی
الجواب: اگر زید نے گھر سے نکل جاؤ بہ نیت طلاق کہا تو ہندہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی، اور فیصلہ دے دیا سے مُراد زید اگر دوسری بار طلاق دینا تھا تو ایک طلاق اس جملہ سے واقع ہوگئی اور یہ پہلی سے مل کر دو بائن طلاقیں واقع ہو گئیں۔ اب زید ایک طلاق کا مالک رہا۔ جب کبھی ایک طلاق دے دے گا ہندہ زید پر ایسی حرام ہو جائے گی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ اب زید کو ہندہ بہ نکاح جدید عدت میں خواہ بعد عدت بمہر جدید حلال ہوگی ۔ بے نکاح اسے رکھنا حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۸/ذی الحجہ ۱۴۰۴ھ