ثبوت طلاق دو مرد عادل یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے یا شوہر کے اقرار سے ہوگا !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: مسمی رفیق احمد نے اپنی زوجہ سے بحالت بیماری یہ کہا کہ طاق میں سے دوا اُٹھا کر لا دے اس نے لا کر نہیں دی۔ اس پر رفیق احمد مذکور نے اپنی زوجہ تھیں کے دو تھپڑ بھی مارے اور یہ کہا کہ اگر اس قسم کی حرکت کرے گی اور میرا کہا نہیں مانے گی تو میں تجھے چھوڑ دوں گا۔ جس وقت رفیق احمد مذکور نے یہ کہا تھا وہاں کوئی موجود نہیں تھا اس کے بعد دو ماہ تک ہنسی خوشی گھر رہی اس کے بعد وہ اپنے میکے اپنے بھائی کے ہمراہ بخوشی چلی گئی ایک ماہ بعد اس نے اپنے شوہر رفیق احمد کو اپنے میکے بلایا اور رفیق احمد چلا گیا۔ دس بارہ روز وہاں رہا پھر مسمی رفیق احمد کو بلقیس نے اپنے باپ سے سوروپے کرایہ دلوا کر کمانے بھیج دیا۔ بمبئی دو ماہ رہا اور خط و کتابت میاں بیوی میں ہوتی رہی۔ دو ماہ بعد بمبئی سے جب لوٹا تو وہ سسرال نہیں بلکہ اپنے ماں باپ کے پاس پہا سو چلا آیا۔ کچھ دن رہنے کے بعد وہ اپنی گھر والی بلقیس کو بلانے کے واسطے سسرال گیا بلقیس کے گھر والوں نے یہ کہہ دیا کہ ابھی نہیں، دو ماہ بعد لے جانا۔ مسمی رفیق احمد گھر آگیا۔ پھر دس پندرہ روز کے بعد لینے پہنچا تو بلقیس نے اپنے گھر ماں باپ سے کہا کہ مجھے تو رفیق احمد طلاق دے چکا ہے میں نہیں جاؤں گی اور اس بات کو عرصہ آٹھ ماہ کا ہو جاتا ہے۔ تب پھر بلقیس سے پوچھا کہ کب طلاق دی اور کب دی اور کس طرح سے دی؟ تو بلقیس نے کہا کہ عرصہ آٹھ ماہ ہوا رات کو چھ دفعہ طلاق دی۔ تو اس سے پوچھا کہ تو نے ظاہر کیوں نہیں کیا۔ تو کہنے لگی میں نے شرم سے کچھ نہیں کہا۔ اب بلقیس کو طلاق ہوگئی یا نہیں ؟ شرع کے حکم سے مطلع فرما یا جاوے۔ فقط ! المستفتی: رفیق احمد ، قصبہ پہاسو ضلع بلند شہر
الجواب: صورت مسئولہ میں محض عورت کے دعویٰ سے طلاق کا ثبوت نہیں ہوگا۔ جبکہ شوہر منکر ہے۔ ثبوت طلاق دومرد عادل یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے یا شوہر کے اقرار سے ہوگا۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر عورت اپنے دعوئی پر گواہ نہیں لاسکتی اور شوہر منکر ہے اور اس کا اقرار طلاق گواہان شرعی کے سامنے ثابت نہیں تو طلاق کا حکم نہیں ہوتا۔ ہاں عورت اگر اپنے دعوئی میں سچی ہے تو اس پر واجب ہے کہ شوہر کو اپنے او پر قابونہ دے۔ اور اس سے ایسا بھاگے، جیسے شیر سے ، جیسے سانپ سے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲؍ جمادی الاولی ۱۳۹۶ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر مصطفی رضا خاں غفرلہ