بیوی کو شوہر سے بگاڑنے کا گناہ، مہر کی ادائیگی، رجعت کا طریقہ، تین طلاقیں اور ترکِ نماز کا حکم
سے نہیں آتی ہے تو اس کے ماں باپ پر کیا ہونا چاہئے؟ (۲) اگر بیوی شوہر سے طلاق لینا چاہے، خاوند کے گھر نہ جائے تو مہر کس پر واجب ہوگا ؟ (۳) شوہر اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی لکھ دے عدت میں بیوی سے رجعت کرے اور شوہر رجعت کرے بیوی رجعت نہ کرے تو رجعت ہوگی یا نہیں؟ (۴) تین طلاق ایک ساتھ میں دینا کیسا ہے؟ (۵) شوہر بیوی کو نماز پڑھنے کی تعلیم سکھائے، بیوی کہے ہم کو دوزخ میں ہی رہنے دو، نماز نہیں پڑھیں گے تو کیا کیا جائے؟ (1) بیوی کے رحم میں بیماری ہو اور بچے نہ بنے تو شو ہر دوسری بیوی سے شادی کر لے تو وہ شادی کیسی ہے؟ اس فیصلہ کو جلد از جلد چھپی ہوئی تحریر میں بھیجنے کی زحمت گوارا کریں۔ عین نوازش ہوگی ! مستلفتون : محمد شفیق خاں، عبد الغنی خاں ، کرم اللہ خاں ،عبدالغنی جمیل خاں ، اصغر علی عبد القاسم ، اصغر علی محمد یونس خاں جلیل خاں، پیر محمد خاں ، طیب خاں، محمد شفیق خاں ۔ ( نیرینا پور )
الجواب: (1) بیوی کو شوہر سے بگاڑ نا حرام بد کام بدانجام ہے جو اس گناہ کا مرتکب ہو، سخت فاسق اشد گنہگار مستحق غضب الہی حق اللہ وحق العبد میں گفتار ہے، تو بہ کرے اور عورت کو اس کے شوہر کے یہاں بھیجے اور وہ شوہر کے ساتھ حسن معاشرت کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مہر شوہر پر واجب ہے مگر جبکہ طلاق کے بدلہ عورت مہر معاف کر دے تو مہر ذمہ شوہر سے ساقط ہو جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) عدت کے اندر رجعت کا اختیار شوہر کو ہے اس نے اگر قول یا فعل سے رجعت کر لی تو رجعت ہوگئی ۔واللہ تعالیٰ اعلم (۴) تین طلاقیں ایک ساتھ دینانا جائز ہے اگر چہ تینوں ہوجائیں گی۔واللہ تعالیٰ اعلم (۵) عورت پر تو بہ لازم ہے اور شوہر پر فرض ہے کہ جب تک وہ تو بہ صحیحہ نہ کرے اور نماز نہ پڑھے، اس سے بیزار رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) دوسری شادی کر سکتا ہے جبکہ پہلی پر جور و ظلم کا اندیشہ نہ رکھتاہور نہ مکروہ تحریمی وگناہ۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ