شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ 'جہاں نان و نفقہ مل سکے وہاں چلی جائے' کے متعلق حکم
میں ایک مرتبہ زیدا اپنی سسرال آیا تھا آپس میں کچھ باتیں جھگڑے کے انداز میں ختم ہوئی جھگڑ اختم نہیں ہونے پایا تھا کہ زید نے کہا کہ ہم نہیں لے جائیں گے ہم اس کا خرچہ اور نان و نفقہ بھی نہیں دے سکتے ہیں مجھ سے زیادہ جہاں اس کو نان و نفقہ مل سکے وہاں چلی جائے تب سے آج تقریباً چار سال ہو گیا۔سسرال سے کوئی نہیں آیا اور نہ ہی زید آیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ سے یہ بھی کہا ہے کہ اگر سال بھر کے اندر تمہارے لڑکا نہیں پیدا ہوا تو تم کو میرے گھر میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کے ان دونوں قول سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اگر واقع ہوگی تو کون سی طلاق؟ جواب سے نوازیں۔ بینوا وتوجروا المستفتی: عظیم اللہ مقام و پوسٹ بیتی پور مضافات فیض آباد، یوپی
الجواب: شوہر نے لفظ ” چلی جائے اگر بہ نیت طلاق کہا یا طلاق کی گفتگو چل رہی تھی اس دوران یہ جملہ کہا تو ایک طلاق بائن اس کی بیوی پر پڑ گئی بعد عدت عورت کو اختیار ہے جس سے نکاح جائز ہو کر لے۔ شوہر سے نیت دریافت کی جائے جب کہ طلاق کی گفتگو کے دوران یہ جملہ نہ کہا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۴ ر رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ