شدید غصہ کی حالت میں بغیر لفظی اضافت کے دی گئی طلاق کے وقوع کا حکم
ہندہ کا بیان ہے کہ زید نے اس سے پہلے کبھی ایسی حرکت اور بدتمیزی نہیں کی تھی اور نہ ہی دکھی ۔ اتنا غصہ تھا کہ زید نے طلاق کے الفاظ ادا کرتے وقت اضافت کا استعمال نہ کیا۔ ہاتھوں سے ہندہ کی طرف اشارہ نہیں کیا جس سے کہ بیوی سے نسبت ظاہر ہو، تقریباً زید دو سال سے آسیب کے زیر اثر ہے جس کا علاج ایک مستند عالم سے کیا گیا مگر زید کی لا پرواہی سے اب بھی کبھی کبھار دورے آتے ہیں جس میں وہ اکثر گھر جلانے اور اجاڑنے کی باتیں کرتا ہے۔ اس واقعہ کے کچھ دیر بعد ہی دونوں فریقین کو اس بات کا شدت سے افسوس ہوا اور دونوں فریقین نے نہایت ٹھنڈے دل سے دوبارہ اپنے ازدواجی تعلقات کو شرعی حدود میں گزارنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ لہذا آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ زبانی طلاق کو کس طرح ازدواجی موڑ دے کر ہموار کیا جا سکتا ہے۔ آپ کا ممنون رہوں گا۔ اور امید کرتا ہوں کہ آپ مندرجہ ذیل حوالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تشفی بخش جواب سے ہماری شرعی رہنمائی کریں گے۔ حوالہ نمبر (۱) اگر غصہ اس حد کا ہو کہ معقل جاتی رہے، تو طلاق واقع نہ ہوگی معمولی غصے میں طلاق ہو جاتی ہے۔ اور وہ صورت کہ عقل جاتی رہے، بہت نادر ہے۔ [ بحوالہ قانون شریعت ] حوالہ نمبر (۲) طلاق میں اضافت ضرور ہونی چاہئے ۔ بغیر اضافت طلاق واقع نہ ہو گی خواہ حاضر کے صیغے سے بیان کرے، مثلاً اسے یا اس کو یا نام لے کر کہے کہ فلاں کو طلاق ہے یا اس جسم و بدن و روح کی طرف نسبت کرے۔ [ بحوالہ بہار شریعت ] یہ واقعہ میرا ہے اور تحریر بالکل ٹھیک ہے۔ المستفتی: محمد آصف اشرفی انصاری پنچار گھاٹ، ناسک
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر یہ شرعی طور پر متفق نہیں کہ زید کی عقل مختل تھی تو صورت سوال میں بنظر ظاہر وعرف شائع تین طلاقیں واقع ہوگئیں کہ اضافت کا لفظاً ہونا ضروری نہیں بلکہ نیہ وعرفا ہونا بھی کافی ہے۔ وہذا الحرام یلزمنی کہنے سے علما نے طلاق کا حکم فرمایا۔ کمافی الدر المختار۔ حالانکہ وہاں اصلاًلفظ طلاق نہیں اور دلیل وہی دی کہ عر فا طلاق واقع ہوتی ہے اور شک نہیں کہ دلالت عرف وجود اضافت پر صورت مسئولہ میں بھی قائم ہے اس لئے کہ آدمی طلاق اپنی بیوی ہی کو دیتا ہے تو خواہ لفظا اضافت ہو یا نہ ہو،طلاق بیوی ہی پر واقع ہوگی یہ حکم بنظر ظاہر لفظ وعرف عام ہے مگر ظاہر احتمال کا منافی نہیں اور یہاں یوجہ عدم اضافت لفظ یہ احتمال قائم ہے لہذا زید اگر یہ قسم کہے کہ میری نیت طلاق کی نہ تھی اور اپنی مراد "طلاق ، طلاق ، طلاق“ کہنے سے واضح طور پر بتادے تو طلاق کا حکم نہ ہوگا مگر سوال میں درج ہوا کہ دے دی واضح رہے کہ محض طلاق کے ذریعہ زید ہندہ کو اپنے سے علیحدہ کرنا چاہتا تھا یہ بات اگر قیاس آرائی نہیں ہے بلکہ زید کا اقرار ہے تو یہ صاف نیت طلاق کی دلیل ہے لہذا تین طلاقوں کا حکم بحال اور زید کے لئے ہندہ ایسی حرام ہوگی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی اور اگر خوب تحقیق ہے کہ زید کی عقل مختل تھی تو طلاق نہ ہوئی مفتی کا کام حکم خدائے قدوس و رسول علیہ الصلاۃ والسلام کو ظاہر کرنا ہے اور حکم اللہ اور اس کے رسول علیہ الصلاۃ والسلام کا ہے جو صورت واقعہ ہو اس پر عمل ضروری ہے ورنہ جھوٹ بولنے سے حرام ہرگز حلال نہ ہوگا بلکہ دو ہر اوبال ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ / رمضان المبارک ۱۴۰۷ھ