زبردستی اور ڈرا دھمکا کر طلاق نامہ پر دستخط کرانے سے طلاق کے واقع ہونے کا حکم
خوردونوش اس کے میکے والوں سے علیحدہ رہا۔ زید خود اپنا خرچ برداشت کرتا تھا۔ اس کے بعد زید لکھنو گیا لکھنو سے واپس آکر زید بمبئی چلا گیا۔ بمبئی سے زید نے لکھا کہ ہمارے والدین اب ہم سے رضامند ہیں لہذا ہندہ کو ہمارے گھر بھیج دو میں تمہارے یہاں خرچ نہیں دوں گا۔ ہندہ کے والدین نے کہا کہ یہیں خرچ دو لیکن زید نے ہندہ کے والدین کے گھر خرچ نہیں بھیجا جب زید بمبئی سے گھر واپس آیا اور ہندہ کو بھیجنے کی درخواست کی ان کے والدین سے، تو انہوں نے کہا کہ میں نہ بھیجوں گا۔ زید کے زیادہ اصرار پر ہندہ کے والدین نے کہا کہ اپنے والدین کو لے کر آؤ اور وہ لوگ میرے سامنے اقرار کریں کہ میں کھانے کپڑے کا ذمہ دار ہوں تو میں ہندہ کو بھیج دوں گا تو زید اپنے گھر آیا اور اپنے والدین کو لے کر گیا جب ہمارے والدین ہندہ کے گھر پہونچے تو ہندہ کے والدین نے کہا کہ ہماری لڑکی کے نام چار بیگہ زمین لکھ دو تو میں ہندہ کو بھیج دوں گا۔ ہمارے والدین نے زمین لکھنے سے انکار کیا اور کہا کہ میں کھانا کپڑا دینے کا ذمہ دار ہوں، زمین نہیں لکھوں گا اس پر ہندہ کے والدین مشتعل ہو گئے اور نو آدمی لاٹھی لے کر مسلح ہو کر تیار ہو گئے کہ ہندہ کو فوراً طلاق دو نہیں تو تمہارا برا حشر ہوگا۔ لیکن زید نے کہا کہ میں ہرگز طلاق نہ دوں گا چاہے جو کچھ کر و۔ اس پر ان لوگوں کے جذبات اور زیادہ بڑھ گئے اور طلاق نامہ لکھا اور زید کو ہر قسم کی دھمکی دے کر اس پر دستخط بنوالیا۔ پھر کہا کہ زبان سے کہو لیکن زید نے کہا کہ زبان سے نہیں کہہ سکتا چاہے اب مجھے مارڈالو۔ دستخط تم لوگوں نے زبر دستی بنوایا ہے۔ زید نے زبان سے طلاق کے الفاظ نہیں کہے۔ ہندہ کو مارنے کی دھمکی دے کر انگوٹھا بنوایا اور وہ بھی رضا مند نہیں تھی اب تک ہندہ بیٹھی ہے ہندہ کے والدین نے ہندہ کی شادی کرنے کی کئی جگہ بات چیت کی لیکن ہندہ نے انکار کر دیا کہ میری طلاق نہیں ہوئی ہے۔ زید نے زبان سے نہیں کہا بخوف جان دستخط بنائے ہیں۔ مندرجہ بالا واقعات کے پیش نظر طلاق واقع ہوئی کہ نہیں۔ شرع واحادیث کی روشنی کے حوالے دے کر جواب سے مطلع فرمائیے
الجواب: اگر صورت واقعہ یہی ہے کہ شخص مذکور نے زبان سے الفاظ طلاق نہ کہے،لوگوں کے جبر وا کراہ سے فقط دستخط کر دئے تو طلاق نہ ہوئی۔ والمسئلہ فی الدر المختار عن البحر فلیر اجع۔ وہ ہنوز اس کی بیوی ہے اس سے بے طلاق اس کا نکاح ہرگز غیر سے نہیں ہوسکتا، کیا جائیگا تو باطل ہوگا اور زن وشو ہر زانی و زانیہ ہوں گے اور کرنے والے کرانے والے واقف حال سب گناہ گار ہوں گے۔ مفتی کا کام حکم شرع کا اظہار ہے نہ کہ اپنی طرف سے حکم نو پیدا کرنا۔ غلط بیانی سے حرام ہرگز حلال نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح حسین رضا غفرله الجواب ھوالصواب ۔ بہاء المصطفیٰ قادری لقد اصاب من اجاب - الفقير تقدس علی القادری