جج کے فیصلے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟
کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے احناف الراسخین کثرهم الله تعالى نصرهم في الدنيا والآخرة ، آمین ثم آمین
مسئلہ ذیل میں کہ: ہمارے قریہ موضع در کوہ میں ایک یتیم بہن بھائی ہیں جن کی عمر بر وقت ۲۱ / برس کی ہے اور ان کے باپ نے آج سے تقریبا بارہ برس قبل وفات پایا ہے بالغفر اللہ لہ۔ ان یتیموں کو اس بستی کے مسلم اور غیر مسلم یعنی دونوں قوموں نے پالا ہے۔ جب یہ لڑ کا جوان بعمر انیس برس کا ہو گیا ہے تو پھر اس بستی کے ہمدردوں نے ان بہن بھائیوں کی شادی تبادلہ میں کرائی ہے (اور بر وقت بھی اس یتیم لڑکے کی ہمشیرہ وہاں پر آباد ہے ) بعد شادی بیاہ کے اس یتیم کی عورت برابر عرصہ دو برس اس کے گھر پر آباد رہتی ہے۔ آج سے قبل چھ ماہ کا واقعہ ہے کہ باپ نے یتیم مذکورہ بالا کی عورت اپنے گھر پر بلا کر پہونچائی۔ پھر اس مسماة کے والد نے وقت کے اعلیٰ افسر ایس۔ ڈی۔ ایم ، جج صاحب کے کورٹ میں اپنی دختر کو پہونچا کر رشوتیں دے کر حلفیہ بیان کرایا ہے۔ مذکورہ بالا حلفیہ بیان میں مسماۃ زوجہ یتیم صاحب بیان کرتی ہے میں جوان عورت ہوں ۔ میرا خاوند نابالغ ہے۔ میرا خاوند میرا نان و نفقہ پارچہ جات ادا نہیں کر سکتا ہے۔ مسماۃ کے حلفیہ بیان میں یہ بھی تحریر ہے کہ مجھ کو ساس صاحبہ دکھ دیتی ہیں، ان الفاظ کے کہنے سے وقت کے اعلیٰ افسر صاحب نے مسماۃ مذکورہ بالا کو لکھ کر دیا ہے کہ جہاں تمہاری مرضی ہو، وہاں پر تم اپنی زندگی گزار سکتی ہو، مسلمانوں کے نکاح برائے نام ہوتے ہیں اور جج حلفیہ میں یہ بھی تحریر ہے کہ اگر تم کو مسلمان زور سے پکڑے یا یہ کہے کہ تم سے میرا رشتہ ہے تو وہ حکومت ہند کی گرفت میں بُری طرح آئے گا۔ اب علمائے اہل اسلام سے پرزور عرض ہے کہ حکومت ہند کی حلفیہ بیان سے شرع محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں اور جن جن مسلمانوں نے اس غریب یتیم کی آباد ہوئی عورت اغوا کر کے جج صاحب سے مطابق قوانین ضابطہ ہند حلفیہ بیان کرایا ہے جان بوجھ کر ، ان کے نکاح رہ گئے ہیں یا نہیں؟ ۔ جن مسلمانوں نے جان بوجھ کر یتیم کی عورت کو اغوا کر کے حکومت ہند کے قوانین وضوابط کے تحت حلفی بیان
الجواب: لمستفتی: مختار باب رضوي عرف کشمیری بابا منگتو ولد گوں صاحب ساکن در کوہ بنگلہ ڈاکخانہ ساڑی تحصیل پٹھان کوٹ ضلع گورداسپور ( پنجاب ) جب تک شوہر اس عورت کو طلاق نہ دے دے اور عدت نہ گزر جائے وہ کسی جج کے فیصلے سے دوسرے کو ہرگز حلال نہ ہوگی اور بر تقدیر صدق سوال جن لوگوں نے عورت کو اغوا کیا اور جنہوں نے اس سے غلط بیان دلوایا ، سب اشد گناہ گار ہیں ان پر تو بہ فرض ہے، ورنہ ہر واقف حال انہیں چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھ / نزیل بنارس