تین طلاق کے بعد بھی اسی بیوی کے ساتھ رہنے والے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: زہرا کے شوہر نور احمد نے اپنی بیوی زہرا کو طلاق دے دی اور نور احمد نے چار آدمیوں کے سامنے اقرار کر لیا کہ میں نے تین مرتبہ طلاق دے دی۔ عدت تک زہرا اپنی ساس اور جٹھانی کے گھر میں رہتی رہی اور کھانا اپنے بچوں کو اور نور احمد کو پکا کر کھلاتی رہی اسی صورت میں عدت پوری ہوئی ، بعد عدت پوری ہونے پر گاؤں والوں نے کہا کہ فتوی منگواؤ ، فتوی آیا اس پر مبر نہیں تھی وہ فتوی نہیں مانا گیا مہر لگ کر گئی وہ بھی نہیں مانا گیا اس عرصہ میں زہرا اور نور احمد دونوں آپس میں میاں بیوی کی طرح رہتے رہے اور ابھی بھی رہ رہے ہیں۔ شرعی مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں؟ خاکسار رئیس احمد دلیل گنج، پوسٹ جہان آباد، پیلی بھیت
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے کہ نور احمد تین طلاق اپنی بیوی کو دے چکا ہے تو اسے اس عورت کے ساتھ رہنا بے حلالہ حلال نہیں مردوزن دونوں پر فرض ہے کہ فورا علیحدہ ہو جا ئیں اور تو بہ کریں ورنہ اشد گنہ گار حرام کار مبتلائے زنا ستحق غضب جبار رہیں گے پھر ساتھ رہنا چاہیں تو عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ اس سے جماع کے بعد جب اسے طلاق دے دے اور عدت گزر جائے تو عورت کو اختیار ہے کہ پہلے سے نکاح کر لے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ / رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ