بیوی کو طویل عرصہ میکے چھوڑنے اور خرچ نہ دینے سے طلاق واقع ہونے کا حکم
کیا زیادہ وقت تک جدائی سے خود بخو دطلاق ہو جاتی ہے؟ جناب اختر رضا خاں صاحب! السلام علیکم ساتھ گزارش ہے کہ ہم آپ سے ایک فتوے کے بارے میں مشورہ چاہتے ہیں تو آپ دین محمدی کے مطابق ہمیں بتائے کہ کیا ہمیں کرنا چاہئے ؟ در اصل بات یہ ہے کہ ہماری نیک دختر کلثوم بانو کی شادی ۱۵ جولائی ۱۹۷۴ء کو قرار پائی اور اب وہ لوگ تین ماہ کے بعد کلثوم کو ہمارے گھر چھوڑ گئے اور اب تک ان لوگوں نے نہ تو خط لکھا نہ لینے آئے اور نہ ہی خرچ دیا اور نہ طلاق دے رہے ہیں تو آپ بتائیں کہ شریعت محمدی کے مطابق کیا ہونا چاہئے ؟ ہم نے سنا ہے کہ زیادہ وقت ہونے سے خود بخو د طلاق ہو جاتی ہے تو آپ ہمیں بتائیے کہ کیا طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں؟ برائے کرم فتویٰ لکھ بھیجے ۔ اس خط کا جواب جلدی سے جلدی بھیجئے گا، مہربانی ہوگی ۔ فقط ! المستفتی: نورمحمد موسیٰ کوڈ ڈا سا گانی ضلع راج کوٹ
الجواب: یہ آپ نے غلط سنا ہے کہ زیادہ وقت گزرنے سے خود بخو دطلاق ہو جاتی ہے۔ طلاق کا اختیار شوہر کو ہے جب تک وہ طلاق نہ دے اور عدت نہ گزر جائے ہر گز دوسرا عقد حلال نہیں ۔ صورت مسئولہ میں چارہ کار یہی ہے کہ جس صورت بنے خواہ بعوض مال یا مہر معاف کر کے یا حاکم کے جبر سے، اس شخص سے طلاق کہلوائیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ شعبان المعظم ۱۴۰۰ھ