لو لگنے اور سخت بے چینی کی حالت میں دی گئی طلاق کا حکم
۸ رصفر المظفر ۱۳۹۹ھ طلاق دے کر کہتا ہے کہ اس وقت ایک دم ہوش نہ رہا! السلام علیکم ! اس مسئلہ میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں کہ : گزشتہ سال بیساکھ جیٹھ کے موسم میں ہمیں کئی بار لوگی اور بیچ بیچے گئے ایک دن اور لونگی اور لو لگنے سے بہت ہی تکلیف اور بے چینی تھی ، دوسرے کے مکان میں ٹھنڈا کی وجہ سے پڑے رہے ۔ پھر جب شام ہو گئی تو ہم اپنے گھر گئے اور لو سے بے چین تھے۔ آنگن میں چار پائی پر لیٹ گئے اور چار پائی پر ایک بچھا ؤ نا بھی بچھا ہوا تھا۔ اور اپنی اہلیہ کوکئی بار کہا کہ تھوڑی دیر لیٹنے دو اور طبیعت کو سکون ہونے دو مگر اہلیہ نے کہا کہ نہیں ابھی مت لیٹو، فورا ہی چلے جاؤ ، جہاں سوتے ہو وہاں چلے جاؤ۔ مگر میں چار پائی سے جب نہیں اُٹھا تو میری اہلیہ نے زبردستی میری پیٹھ کے نیچے سے بچھاؤن کو کھینچ لیا۔ اہلیہ کے کھینچنے پر ہم چار پائی سے گر گئے اسی وقت میری زبان سے یکے بعد دیگرے تینوں طلاق نکل گئی ، حالانکہ طلاق کے مسئلہ سے ہم کچھ
الجواب: تینوں طلاقیں ہو گئیں اور عورت ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔صورت مسئولہ میں ہوش مندر ہے کا عذر نہ مقبول نہ معقول ۔ بالفرض اگر تحقیق ہو کہ اس وقت واقعی ہوش نہ تھا یا عقل محمل تھی تو حکم طلاق نہ ہوگا۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله