زبان سے تین طلاقیں دیں تو تینوں طلاقیں واقع !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: علی رضا کی شادی جناب تو حید صاحب کی لڑکی جسیم النساء سے تاریخ ۵-۶ رشعبان کو ہوئی دین مہر پندرہ سوا کاسی روپیہ طے پایا تھا اس کے بعد علی رضا لڑکی کے ساتھ اپنے گھر پر کچھ برا برتاؤ کیا لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ آئی اور کل واقعات اپنے ماں باپ وسماج کو کہی۔ اس پر سب خصہ ہو کر علی رضا کے والد کو بلوا کر قریب دو سو آدمی نے دونوں کوگھیر لیا اور زبردستی طلاق نامہ کا مضمون واقرار نامہ کا مضمون بنا کر दोनों کو دئے، والد نے معاملہ روکنے کے لیے لوگوں سے منت سماجت کی لیکن لوگوں نے نہ مانا اور زبردستی اقرار نامہ لکھوایا اور سادہ ہینڈ نوٹ کرایا، اس کے بعد علی رضا سے بھی زبر دستی طلاق نامہ لکھوایا اور ہینڈ نوٹ کرایا اور بعد میں قریب ہیں پچیس آدمی لڑکا کے ساتھ جا کر تین مرتبہ تین طلاق دلوائے ۔ یہ سب وجوہات سے لڑکی کو طلاق پڑ جائے گی اور لڑکی اس سے زوجیت سے خارج ہو جائے گی یا پھرلڑ کی سے رجعت کر سکتا ہے؟ بینوا توجروا المستفتی: محمدنور الحق بقلم خاص محمد شرف الدین
الجواب: اگر علی رضا نے زبان سے تین طلاقیں دیں تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور اس کی بیوی اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت اگر پہلے شوہر کے ساتھ رہنا چاہے تو عدت گزار کر دوسرے صحیح النکاح شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت گزارے پھر پہلے سے نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ یکم رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ، پنجشنبه