جان بوجھ کر طلاق کو تلاق یا بنت کو ولد لکھنے سے طلاق کا حکم
جان بوجھ کر طلاق کو تلاق یا بنت کو ولد کہے تا کہ طلاق نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ: رفعت علی خاں نے اپنی بیوی راحیل بیگم کو بطور مذاق یہ کہ دیا کہ میں تجھے پانچ منٹ میں طلاق دے دوں گا، میرے یہ الفاظ سن کر وہ ہنستی رہی اور اس نے کچھ نہیں کہا اور پھر میرے دل میں کیا آیا کہ میں نے ایک کاغذ لیا اور مذاق میں یہ تحریر لکھ دی۔ میری عبارت مندرجہ ذیل ہے یہ تحریر میں نے پانچ منٹ کے اندر ہی لکھ دی تھی۔ عبارت یہ ہے : ”میں رفعت علی خاں ولد رضا علی خاں اپنی بیوی راحیل بیگم ولد جمیل احمد کو اس کی مرضی کے مطابق تلاق دیتا ہوں اور راحیل بیگم بھی تیار ہے ۔ میرے دستخط بھی نیچے موجود ہیں میں نے وہ پر چہ لکھ کر اپنی بیوی راحیل بیگم کو دے دیا لیکن میں نے دل سے طلاق نہیں دی تھی میں نے جان بوجھ کر تحریر میں غلطیاں لکھی تھیں اس لئے کہ طلاق واقع نہ ہو، جیسے لفظ ”طلاق“ کو تلاق لکھا اور راحیل بیگم دختر نہ لکھ کر راحیل بیگم ولد جمیل احمد “ لکھا تھا یہ غلطیاں میں نے جان بوجھ کر لکھی تھیں کیونکہ میں طلاق دینا نہیں چاہتا تھا بر بنائے مذاق یہ گفتگو تحریر میں ہوئی تھی میں نے یہ لفظ زبان سے نہیں بولے کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں مجھے یہ قطعا علم نہیں تھا کہ مذاق میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور اگر ہوئی ہے تو کون سی طلاق واقع ہوئی ہے؟ کیا کوئی ایسا بھی راستہ ہے کہ جس سے میری منکوحہ میرے نکاح میں باقی رہ جائے؟ برائے کرم بہت ہی جلد قرآن و حدیث کتب فقہا سے مع حوالہ جات کے جواب لکھیں ۔ اگر طلاق کسی بھی قسم کی واقع ہو گئی تو عدت اور اس کے بعد کا حکم تحریر فرمائیں! امستفتی: غلام حسین اشرفی معرفت محمد حنیف خاں رضوی از هری شیرانی مدرسہ مدینتہ الاسلام محله تولیان موضع و پوسٹ چورد-331001 ( راجستھان)
الجواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ اگر پہلے دو طلاقیں نہ دی ہوں تو عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو متقی پرہیز گار مردوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی اسے اپنے نکاح میں لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی