گواہوں کے سامنے تین طلاقوں کے اقرار کا شرعی حکم اور اس کا ثبوت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی بیوی ہندہ کے درمیان کسی بنا پر جھگڑا ہوا تو زید نے اپنے گھر پر دو طلاقیں دیں جس کے دو گواہان ہیں جن کے نام یہ ہیں۔ (۱) محمد بن محمد یسین ، رام نگر ۔ (۲) صغیر احمد بن وزیر احمد کاشی پور۔ ان میں سے ایک گواہ آنگن میں تھے اور دوسرے گواہ لڑکے کے پاس موجود تھے۔ ان دونوں فریقین نے ۲ مرتبہ طلاق کے الفاظ سنے اور زید کی بیوی ہندہ بھی دو بار طلاق بتاتی ہے۔ پھر زید نے جس پور جا کر ان گواہان کے سامنے تین مرتبہ طلاق دینے کا اقرار کیا۔ گواہان کے نام یہ ہیں ۔ (۱) حافظ احمد نور صاحب جسپوری۔ (۲) محمد حنیف جسپوری۔ لہذا شرعاً کیا حکم ہے؟ مطلع فرمائیں۔ فقط والسلام ! لمستفتی: محمد حنیف جسپوری گواه محمد حنیف صدر ، لڑکے کا دستخط ( محمد مدنی )
الجواب: فریقین حاضر ہوئے اور دونوں کے بیانات سماعت ہوئے اور گواہان پیش ہوئے ۔ شوہر کے گواہان با شرع نہیں۔ لہذا ان کی گواہی نامسموع اور جسپور کے گواہان با شرع ہیں جن کے سامنے زید (شوہر) نے تین طلاقوں کا اقرار کیا ہے۔ لہذا تین طلاقیں ثابت ہوگئیں اب زید کو بے حلالہ ہندہ سے نکاح حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ رشوال المکرم ۱۴۰۲ھ