بغیر دستخط والے نوٹس میں 'یہ نوٹس ہی طلاق ہے' لکھنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
نوٹس میں لکھا کہ یہ نوٹس ہی طلاق ہے تو طلاق ہوگی یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) زید نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی لیکن وکیل سے مشورہ لے کر کہا کہ میری بیوی ہوشیار ہو جائے تو وکیل نے کہا کہ ایک نوٹس دے دیا جائے آخر میں یہ لفظ تحریر تھا کہ یہ نوٹس ہی طلاق ہے شوہر کا نام یا دستخط نہیں تھا۔ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟ اگر ہوئی تو کون سی طلاق پڑی؟ (۲) لڑکی ہندہ نے دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا نوٹس کے آنے کے فوراً بعد ۔ کیا ہندہ کا نکاح دوسرے شوہر سے ہوگا کہ نہیں؟ اور جس نے نکاح پڑھایا اور وکیل و گواہ کے بارے میں کیا فیصلہ ہوگا؟
الجواب: (1) نوٹس دیکھا، اس کی وجہ سے ایک طلاق رجعی ہوئی ، عدت اگر ہنوز قائم ہے تو شوہر کو رجعت کا اختیار ہے۔ رجعت کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دو نمازیوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ،اسے اپنے نکاح میں لیا۔ (۲) نکاح مذکور جو عورت نے دوسرے سے کیا، حرام قطعی ہے کہ عدت کے اندر ہوا اور عدت میں نکاح تو نکاح پیغام نکاح صراحتہ دینا بلکہ ارادہ نکاح بھی حرام ہے۔ قال تعالیٰ: {وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَهُ الآية } دوسرے مرد کو اگر یہ معلوم تھا کہ یہ عورت معتدہ غیر ہے تو نکاح اصلا نہ ہوا، ورنہ فاسد ہوا۔ بعد علم، متارکہ فرض ہے اور تاخیر گناہ ہے۔ متارکہ یہ ہے کہ عورت سے شوہر کہے کہ میں نے تجھے چھوڑا، یا وہی کہدے کہ میں مرد سے جدا ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم