عدت کے دوران دوسرے نکاح کی شرعی حیثیت اور طلاق رجعی کے بعد رجعت کا حکم
موجودہ آدمیوں کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں تسلی بخش جواب عنایت کریں ۔ عین مہربانی ہوگی۔ اگر نکاح ہوا تو کس صورت سے؟ اور نہیں ہوا تو کس وجہ سے؟
الجواب: (1) نوٹس دیکھا، اس کی وجہ سے ایک طلاق رجعی ہوئی ، عدت اگر ہنوز قائم ہے تو شوہر کو رجعت کا اختیار ہے۔ رجعت کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دو نمازیوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ،اسے اپنے نکاح میں لیا۔ (۲) نکاح مذکور جو عورت نے دوسرے سے کیا، حرام قطعی ہے کہ عدت کے اندر ہوا اور عدت میں نکاح تو نکاح پیغام نکاح صراحتہ دینا بلکہ ارادہ نکاح بھی حرام ہے۔ قال تعالیٰ: {وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَهُ الآية } دوسرے مرد کو اگر یہ معلوم تھا کہ یہ عورت معتدہ غیر ہے تو نکاح اصلا نہ ہوا، ورنہ فاسد ہوا۔ بعد علم، متارکہ فرض ہے اور تاخیر گناہ ہے۔ متارکہ یہ ہے کہ عورت سے شوہر کہے کہ میں نے تجھے چھوڑا، یا وہی کہدے کہ میں مرد سے جدا ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ رذی الحجہ ۱۳۹۷ھ