کچہری کی طلاق کی شرعی حیثیت اور شوہر کے اختیار طلاق کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کی شادی ہندہ سے ہوئی۔ ۵/۴ سال تقریباً گزر گئے ، زید اور ہندہ کے درمیان جھگڑا ہوا تو ہندہ کے والد ہندہ کو اپنے گھر لے آئے ۔ آٹھ ماہ کے بعد ہندہ کے والد ہندہ کوکلکٹر صاحب کے یہاں لے گئے اور طلاق نامہ لکھوا لائے ۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ ہندہ کی شادی کسی دوسرے شخص سے اس صورت میں ہوسکتی ہے یا نہیں؟
الجواب: لمستفتی: رمضانی قصاب موضع کس گنج ، ڈاک خانہ خاص، ضلع پیلی بھیت کچہری کی آزادی کوئی چیز نہیں طلاق کا اختیار شوہر کو ہے۔ ابن ماجہ کی حدیث ہے: ”الطلاق لمن اخذ بالساق (1) (1) سنن ابن ماجه، کتاب الطلاق باب طلاق العبد، ص ۱۵۱ فیصل پبلیکیشنز جب تک شوہر طلاق نہ دے دے اور عدت نہ گزر جائے دوسرے سے ارادہ نکاح بھی حرام بد کام بدانجام ہے۔ قال تعالیٰ: {وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاء - الآية } () یعنی حرام ہیں تم پر شوہر والیاں ۔ وقال تعالى : {وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَهُ الآية } () عدت کے پوری ہونے کے قبیل نکاح کا ارادہ نہ کرو۔ صاوی حاشیہ جلا لین میں جو ہرہ سے ہے: مراتب القصد خمس هاجس ذكروا فخاطر فحديث النفس فاستمعا یلیه هم فعزم کلها رفعت سوى الأخير ففيه الأحد قد وقعا (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله