تعداد طلاق میں شوہر اور گواہان (عورتوں) کے بیان میں اختلاف اور عورت کے لیے احتیاط کا حکم
زید کا کہنا ہے کہ میں ہندہ کے گھر گیا جو زید کی بیوی تھی جو تقریباً ایک سال سے اپنے ماں باپ کے پاس رہتی تھی زید نے اپنی بیوی سے گھر چلنے کو کہا اور کہا کہ اگر نہیں چلو گی تو میں تم کو طلاق دے دوں گا۔ اس نے ۳ر بار کہا پھر بھی جب کوئی جواب نہ ملا تو زید نے ۲ بار طلاق ، طلاق“ کہا اور واپس چلا آیا۔ اس مکان میں اس وقت دو عورتیں موجود تھیں، ان دونوں کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ زید نے ۳/ بار طلاق ، طلاق ، طلاق کہا ( جیسا کہ حلفیہ بیان اسی پر چہ کے ساتھ منسلک ہے ) نوٹ: اس واقعہ کو آج ایک ماہ اور ۱۳ اردن کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یعنی مؤرخہ ۱۷ راگست ۱۹۸۳ء کا ہے لہذا جو جواب ہو قرآن وحدیث کی روشنی میں عنایت فرما ئیں ۔
الجواب: زید اگر تین طلاقوں کا منکر ہے تو نری عورتوں کے بیان سے تین طلاقیں ثابت نہ ہوں گی کہ بصورت انکارشوہر، طلاقوں پر گواہان شرعی کی شرعی گواہی ثبوت دعوئی کے لئے ضروری ہے۔ البتہ عورت اگر تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ زید کو خود پر قابو دے، بلکہ اسے لازم ہے کہ زید سے ایسے دور بھاگے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے۔ در مختار میں ہے: في البزازية قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزویج نفسها منه ليس لها ذالک اصرت علیه ام کذبت نفسها (1) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۱ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج ۵، ص ۵۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت