’طلاق دیتا ہوں‘ سے طلاق ہوگی یا نہیں؟ ایک تحقیق !
طلاق نامه (1) میں محمد یونس بن مرحوم حکیم غلام محمد تہ دل سے زبیدہ بانو ( بنت محمد قاسم جمال الدین ) کو طلاق دیتا ہوں۔ (۲) میں محمد یونس بن مرحوم حکیم غلام محمد تہہ دل سے زبیدہ بانو ( بنت محمد قاسم جمال الدین ) کو طلاق دیتا ہوں۔ (۳) میں محمد یونس بن مرحوم حکیم غلام محمد تہہ دل سے زبیدہ بانو ( بنت محمد قاسم جمال الدین ) کو طلاق دیتا ہوں
الجواب: حامد أو مصلیاً ومسلماً ۔ زبان سے طلاق نہیں دی بلکہ کتابت کے طور پر ہے لیکن لفظ حال کے ساتھ ہے اس لئے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم مفتی رضوان الرحمن دار الافتاء جامع مسجد اندورسٹی) ھو الموفق ۔ محمد یونس نے یہ طلاق نامہ پنچایت کی اجازت پر مشروط کیا تھا کہ اگر پنچایت اجازت دے گی تو میں طلاق دے دوں گا یعنی اگر پنچایت اجازت دے تو میری طرف سے یہ طلاق نامہ شمار کیا جائے۔ چونکہ پنچایت نے اجازت نہیں دی اس لئے طلاق واقع نہیں ہوئی ، نکاح قائم ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح ۔ سائل نے محمد یونس کا وہ خط جو کہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۹ء کو قوم کے صدر کے نام لکھا تھا پیش کیا،لہذا اس خط کی روشنی میں یہ فتویٰ دیا گیا ہے۔ اشفاق حسین نعیمی ، ۲۷ ؍رجب المرجب ۱۳۹۹ھ الجواب: شوہر کا طلاقنامہ دیکھا اور خط جو اس نے پنچایت کے نام بھیجا ہے، بغور سنا۔ شوہر نے اپنی بیوی کو بصیغہ حال تین طلاقیں بلا شرط دی ہیں۔ لہذا تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں اور بیوی اس کے نکاح سے فوراً باہر ہوگئی اور اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح کرے۔ وہ بعد جماع جب طلاق دے دے اور عدت گزر جائے تو بعد عدت پہلے سے نکاح کر سکے گی ۔ قال تعالى : (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَة) () وقال علیہ السلام : لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) پھر شرط کا کلام متصل میں ہونا ضرور، بصیغۂ حال طلاق واقع ہونا خود ظاہر اور کلام علماء میں مصرح در مختار میں ہے: وو هو (أى التعليق ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة اخرى ويسمى يمينا مجازا و شرط صحته كون الشرط معدوما على خطر الوجود وكونه متصلا الالعذر وذكر المشروط-الخ“ملتقطاً(۳) رد المحتار میں ہے: قوله (وكونه متصلا-الخ) أى بلا فاصل أجنبى - الخ () العقود الدریہ میں ہے: سئل في رجل له زوجة موافقة لا نها مطيعة له وكل منهما في مسكن على حده فقال لزوجته ما دمت مع امك تكونى طالقة فانقطعت عن موافقتها اطاعت مدة ولفظ تكوني مغلب فى الحال و نيته فى المعية المذكورة ما ذكر من الموافقة والاطاعة لها فما الحكم (الجواب ) صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق الا اذا غلب فی الحال كما صرح به الكمال بن الهمام الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۶ / ذی الحجہ ۱۴۰۱ھ