تین طلاقوں کے وقوع اور حلالہ کے شرعی طریقے کا بیان
رہوں گی۔ یہ بات کئی بار کہی اس پر لڑکے نے لڑکی کو تین بار کہ دیا کہ : میں نے تجھ کو طلاق دی۔ اس وقت یہ لوگ موجود تھے جنہوں نے اپنے کانوں سے سنا۔ (کنیز بیگم محمد عارف)۔ لہذا عرض یہ ہے کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا المستفتی : انورعلی رضوی نوری متعلم منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف
الجواب: فی الواقع اگر شخص مذکور نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت کے بعد کسی سے بعد نکاح صحیح وطی کرائے وہ بعد وہلی طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر عورت عدت کے بعد پہلے سے عقد کر لے۔ قال تعالى: (حَلَى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَة))) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) مگر ثبوت طلاق کے لئے جبکہ شوہر منکر ہو، دومرد عادل یا ایک مرد و عورت عادل درکار ہیں ۔ قال الله تعالى: (وَأَشْهِدُوا طَوَى عَدْلٍ مِنكُمْ - الآية) (۳) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله