لفظ 'طلاق دیتا ہوں' تین بار کہنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ یا سیدی ! یہ سچ ہے کہ بیوی اپنی طرف سے شوہر کی مرضی کے مطابق حق زوجیت نہ ادا کرتی تھی جس پر کئی دن سے نزاع چل رہا تھا جس پر بیوی کے اوپر لعنت کی کافی وعید ہے۔ یہی وجہ غصہ کی تھی ۔ یا سیدی ! مسلک اعلیٰ حضرت میں ایجاب وقبول کے وقت اگر یہ جملہ ادا کیا گیا کہ: ”کرتا ہوں تو نکاح نہیں مانا جائے گا بلکہ دولہا دولہن زنا کے مرتکب ہوں گے۔ یا سیدی! نکاح ایک سنت ہے جس کے ادا ہونے میں اتنی سخت پابندی ( لفظ ) ” کرتا ہوں“ نہیں بلکہ ”کیا“ کہنا چاہئے ۔ یا سیدی ! مسلک اعلیٰ حضرت میں طلاق ایک بدترین لعنت ہے اس میں جو بھی شامل ہو اس پر بھی رب تبارک و تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتوں کی لعنت ہے۔ یا سیدی ! میرے اعلیٰ حضرت امام اہل سنت کے اوپر دیوبندی وہابی نے الزام لگایا کہ ہر مسلمان کو کا فر کا فتویٰ دیتے ہیں تو میرے اعلیٰ حضرت کے احتیاط کا ثبوت یہ ہے کہ اسماعیل دہلوی بددین گمراہ پر کفر کا فتویٰ نہ دیا۔ مذہب حق پر ہونے کا اس بات سے ثبوت دیا کہ کسی کے کلمہ کفر پر ہم سو دلیلیں قائم کریں گے، اگر ۹۹ دلیلیں کفر پر اور ایک دلیل اسلام پر ملے گی تو ہم اسے کا فرنہ کہیں گے۔ اسی بنا پر اسماعیل مردود و بددین گمراہ پر کفر کا فتویٰ نہ دیا کہ ہم کافر نہ کہیں گے بددین گمراہ ضرور کہیں گے اور دوسرے کو کافر کہنے سے منع نہ کریں گے۔ یا سیدی! نکاح ایک سنت ہے اس پر کرتا ہوں اور کیا“ کے لفظ کی دلیل قائم کی جائے اور طلاق ایک بدترین لعنت ہے اس سے بچنے کے لئے جس پر رب تبارک و تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتوں کی لعنت ہو، دلیل نہ لی جائے۔ حضور کرم فرمائیں اور غلام کو اپنے علوم ومعرفت سے سکون قلب حاصل کرائیں، نوازش ہوگی ۔ یا سیدی ! خادم کو طلاق و نکاح کے ان مسائل سے تو یقین ہے کہ طلاق قطعی نہ ہوئی جب یہ نہ کہا جائے کہ : ” طلاق دی۔ والسلام علیکم المستفتی: مقبول احمد قادری برکاتی رضوی قلندری معرفت نقو بخش چپراسی تحصیل جالون ، پوسٹ ضلع جالون (یوپی)
الجواب: فی الواقع اگر زید نے تین بار طلاق دیتا ہوں“ کہا تو تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور زید پر اس کی بیوی ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ اور یہ اس لئے کہ طلاق دیتا ہوں ہماری زبان میں فی الحال انشاء طلاق کے لئے متعین ہے اور اس سے عرف عام میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ شوہر نے جس وقت طلاق دیتا ہوں“ کہا کہ اس کی عورت کو طلاق ہو گئی اور جب یہ لفظ دلالت حال کے لئے متعین اور اس کا استعمال طلاق دینے کے لئے متعارف تو طلاق دیتا ہوں“ اور ”طلاق دی“ میں باعتبار معنی کوئی فرق نہیں کہ دونوں سے طلاق واقع ہوتی ہے۔ ہمارے علماے اعلام نے اطلق “ کہنے پر طلاق واقع ہونے کا حکم دیا ، بشرطیکہ اس کا استعمال طلاق دینے کے لئے عام طور پر متعارف ہو، کہ اگر چہ اطلق“ میں زمانہ حال پر کوئی دلالت لفظی نہیں مگر جب یہ لفظ عرف عام میں طلاق کے لئے مستعمل ہوا تو خود بخود عرف حال کے لئے متعین ہو گیا۔ فتح القدیر میں ہے: "وهذا بناء على ان الايقاع لا يكون بنفس اطلق! لانه لا تعارف فيه، وقدمنا انه لوتعورف جاز و مقتضاه ان يقع به هنا ان تعورف لانه انشاء لا اخبار - اله )) اسی فتح القدیر میں ہے: ”وقد تعورف فی عرفنا فی الحلف الطلاق يلر مني لا أفعل كذا يريد ان فعلته لزم الطلاق ووقع فيجب أن يجرى عليهم لأنه صار بمنزلة قوله إن فعلت كذا فأنت طالق - الخ“(۲) در مختار میں ہے : تبين بواحدة ان قالت اخترت نفسى أو أنا أختار نفسى استحسانا بخلاف قوله طلقی نفسک فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسى لم يقع لأنه وعد_جوهرة مالم يتعارف أو تنو الانشاء‘(س) رد المحتار میں اسی عبارت در مختار کے تحت فتح القدیر کی عبارت مندرجہ بالا نقل کر کے نہر سے نقل کیا: "وقيد المسألة في المعراج بما اذالم ينو انشاءالطلاق فان نواه وقع-اه “(۲) (1) فتح القدیر، کتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، ج ۴، ص ۷۴، برکات رضا، گجرات (۲) فتح القدير كتاب الطلاق، باب ايقاع الطلاق، ج ۴، ص ۸ برکات رضا، گجرات (۳) الدر المختار كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، ج ۴، ص ۵۵۸، ۵۵۹، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) رد المحتار، کتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، ج ۴، ص ۵۵۸، ۵۵۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت در مختار (باب الصریح) میں ہے: ”و من الالفاظ المستعملة : الطلاق يلزمني والحرام يلزمنى وعلى الطلاق وعلى الحرام فيقع بلانية للعرف “ العقود الدریہ میں ہے: ” صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق الا اذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام (۲) بحر الرائق و شلبی علی التبیین میں ہے، واللفظ للاخير : ” قال الكمال رحمه الله بخلاف قولها أطلق نفسى وهذا بناء على ان الايقاع لا يكون بنفس أطلق لانه لا تعارف فيه وقدمنا انه لو تعورف جاز و مقتضاه ان يقع به هنا ان تعورف لانه انشاء لا اخبار-الخ۔ملتقطا (۳) اور جب ”أطلق بحکم عرف ، حال کے لئے متعین اور اس سے طلاق واقع تو ” طلاق دیتا ہوں“ سے بدرجہ اولیٰ طلاق واقع ہوگی کہ یہ تو لفظا اور عرفا حال کے لئے متعین ہے اور نکاح بھی حال کے صیغہ سے منعقد ہو جاتا ہے۔ در مختار میں ہے: ”و ينعقد أيضا بما أى بلفظين وضع أحدهما للمضى والآخر للاستقبال أو للحال“ () اور طلاق مطلقا نا جائز نہیں بلکہ مباح ہے اور کبھی مستحب ہوتی ہے اور کبھی واجب اور کبھی حرام و بدعت ہوتی ہے۔ اسی در مختار میں ہے: ”وقولهم الأصل فيه الحظر معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه، بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية ويجب لوفات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا-ملتقطا (ه) (1) الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الصريح، ج ۴، ص ۴۶۴ ، دار الکتب العلمية، بيروت (۲) العقود الدريه في تنقيح الفتاوى الحامديه کتاب الطلاق، دار المعرفة، بيروت (۳) شلبی علی تبیین الحقائق، کتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، ج ۳، ص ۸۸، دار الکتب العلميه بيروت (۴) الدر المختار، کتاب النکاح، ج ۴، ص ۶۹ ، دار الکتب العلمية، بيروت (۵) الدر المختار، کتاب الطلاق، ج ۴، ص ۴۲۷، ۴۲۸، ۴۲۹، دار الکتب العلمية، بيروت ہاں صورت مستفسرہ میں تین طلاقیں یکبارگی دینا ضرور ناجائز واقع ہوا اگر چہ طلاقیں ہوگئیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱ ارذی الحجہ ۱۴۰۳ھ