بیوی کے یہ پوچھنے پر کہ طلاق کیسے دی جاتی ہے شوہر کا طلاق طلاق کہنا
بیوی نے پوچھا طلاق کیسے دی جاتی ہے؟ شوہر نے کہا " طلاق طلاق! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میری بیوی اپنے والدین کے یہاں تھی اور رہتے ہوئے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ ہونے جارہا تھا۔ اتفاقا میرے اپنے رشتہ داروں میں ایک لڑکے کی شادی تھی ، میرے والدین کو خیال آیا کہ دلہن کو بھی بلا کر دعوت میں ساتھ لے جائیں لہذا میرے والدین نے میرے بھائی صاحب کو میری سسرال بھیجا اور میری بیوی میرے بھائی کے ساتھ آئی۔ لہذا کھانا کھانے کے بعد گوشتہ تنہائی میں میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ آپ نے مجھے کیوں آج بلایا؟ میری ماں کی طبیعت خراب تھی، میں انہیں چھوڑ کر آئی ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ اگر ایسی بات تھی تو بھائی صاحب کو بتادی ہوتی، میں نے تو تم کو بلانے نہیں بھیجا تھا، میرے والدین نے بلالیا شرکت کرانے کے ارادے سے۔ اب بات کچھ اور ہونے لگی، وہ یہ کہ میرے پڑوس میں ایک نے اپنی بیوی کو چند دن ہوئے کہ طلاق دے دی تھی ۔ لہذا اسی سلسلے میں میری بیوی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا شاہدہ کو طلاق دے دی ہے؟ میں نے کہاں ہاں۔ پھر پوچھنے لگی کہ طلاق کیسے دیجاتی ہے؟ اس
پر میں نے بتایا کہ : "طلاق ، طلاق۔ ایسے دی جاتی ہے۔ اس پر انہوں نے جب کہ میں نے لفظ : ”طلاق، طلاق“ کہا ، تو میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ، میں خاموش ہو گیا۔ بات ختم ہو گئی۔ ایک ہفتہ تک وہ میرے ساتھ میرے پاس رہی پھر ان کے والدین نے میری بیوی کو بلا یا تو میں نے بھیج دیا۔ ایک ہفتہ بعد میں اپنی ساس کی مزاج پرسی کے لئے شریک حیات کی اطلاع کے مطابق گیا تو وہاں مجھ سے میری بیوی کے نانا صاحب مجھ سے یہ کہنے لگے کہ محمود کیا تم نے زینت جہاں کو طلاق دے دی ہے؟ مجھے سن کر بہت حیرت ہوئی اور میں نے نانا کو یہ کہا کہ ان ہی سے پوچھ لیجئے ، تو پھر کہا گیا کہ تم جو الفاظ ان سے کہے ہو، پھر کہ دو اور دستخط کر دو۔ اس پر میں نے یہ کہا کہ میری بیوی مجھ سے یہ پوچھ رہی تھی کہ طلاق کیسے دی جاتی ہے؟ لہذا میں نے ان کے سوال کے مطابق یہ کہا کہ طلاق ، طلاق۔ اگر نہ سنی ہو تو پھر کہیں۔ اس سے آگے اور کوئی بات نہیں۔ دستخط کے لئے زور ڈالا جارہا تھا تو میں نے یہ کہا کہ جب تک میرے والدین بھائی وغیرہ ساتھ نہ آئیں ، وہ موجود نہ ہوں تو میں دستخط نہیں کروں گا۔ بہر حال یہ جتنی بھی باتیں گزریں ہم کو یہ علم نہ تھا کہ ہمیں کہلایا جارہا ہے یا پوچھا جارہا ہے یا مذاق کیا جا رہا ہے، ہماری سمجھ میں جب آئی جب کہ ہم سے دستخط کرانے کے لئے دباؤ ڈالنے پر آمادہ ہوے، میں بڑی مشکل سے جان چھڑا کر گھر پہ آیا ہوں۔ ہمارے دل میں طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہے، نہ رہے گا۔ ہم تو دوسرے کی حقیقت کو پوچھنے پر بتارہے تھے۔ یہ باتیں ہمارے لئے ایک قسم کا الزام ہے۔ آج تک ہمارے خاندان میں ایسا نہیں ہوا ، خدا محفوظ رکھے۔ آمین دیگر ضروری کلام : اب پھر فیصلہ کی باری آئی۔ میں اپنے والد کے ہمراہ گیا۔ وہاں میرے ہاتھ پر قرآن دیا گیا، میں نے قرآن ہاتھ میں لے کر خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ کہا کہ میری بیوی نے پوچھا کہ طلاق کیسے دی جاتی ہے؟ اس پر میں نے یہ کہا ہے کہ : "طلاق ، طلاق، ایسے دی جاتی ہے، ایسے دی جاتی ہے۔ اور اسی مجلس میں میری بیوی بھی قرآن ہاتھ میں لے کر یہ قسم کھائی ہے کہ میرے شوہر نے مجھ سے یہ کہا ہے : ”میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی، اگر نہ سنا ہو تو پھر کہیں ؟“۔ یہ میری اور میری بیوی کی جو قسم ہے، دونوں کا ذکر آپ کے سامنے ہے، مزید تصدیق کے لئے دونوں کا حلف نامہ بھی حاضر خدمت ہے اور ایک ضروری بات عرض خدمت ہے کہ جب میری بیوی اپنے والدین