تین طلاق کے بعد بغیر حلالہ نکاح کے لیے مسلک تبدیل کرنے کا حکم
بلا ضرورت کسی حیلہ سے امام اعظم کی تقلید سے عدول نا جائز و حرام ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک کتاب جس کا نام زیور الایمان ہے اس میں بحوالہ مجموعہ فتاوی ص ۴۵، ایک مسئلہ اس طور پر لکھا ہوا ہے کہ زید نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں طلاق دی کہ میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی۔ ایسے الفاظ تین مرتبہ زبان سے کہے تو مذہب حنفیہ میں طلاق واقع ہوگئی ۔ بغیر حلالہ کے اسی مرد سے نکاح اس مطلقہ عورت کا جائز نہ ہو گا مگر ہاں جبکہ دیکھے کہ ان دونوں میں جدائی کا ہونا بڑی مشکل ہے تو چاہئے کہ کسی امام کی تقلید کرے تو مضائقہ نہیں کہ مذہب حنفی والا بوقت ضرورت حضرت امام مالک رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول پر عمل کرے۔ بغیر حلالہ کے اس شخص سے نکاح کر دے۔ مندرجہ بالا حوالہ کے تحت حسب ذیل سوال دریافت طلب ہیں ۔ (1) یہاں پر ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے۔ مذہب حنفی کی رو سے طلاق واقع ہوگئی ۔ ایسی صورت میں جبکہ ان دونوں میں جدائی ہونا مشکل تر ہے تو کیا مندرجہ بالا حوالہ کی رو سے حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے قول کی بنا پر کوئی حنفی مسلک بغیر حلالہ اسی عورت مطلقہ سے نکاح کرسکتا ہے؟ (۲) مندرجہ بالا کتاب زیور ایمان میں لکھا ہوا مسئلہ اور اس کا حوالہ کہاں تک صحیح ہے؟ اور مندرجہ بالا
الجواب: (۳۲۱) ہم حنفی ہیں۔ ہمیں امام اعظم کے مذہب پر عمل لازم ہے ۔ بلاضرورت کسی حیلہ سے امام اعظم کی تقلید سے عدول ناجائز وحرام ہے اور اسے حیلہ بتانا ہرگز روانہیں اور وہ مفتی سخت فاسق و بدخواہ عوام ہے جولوگوں کو امام اعظم و همام اقدم کی تقلید سے حیلہ بتا کر روکے۔ اور وہ کتاب مستند معلوم نہیں ہوتی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ