خط کے ذریعے تین طلاق دینے کا حکم اور حاملہ عورت کی عدت کا بیان
حضور مفتی اعظم دامت برکاتہم العالیہ اور ان کے اراکین سلطنت سے گزارش ہے کہ از راہ کرم شریعت کی رو سے تحریری طور پر مطلع فرمانے کی زحمت فرمائیں کہ چند ماہ قبل زید نے اپنی اور اپنی بیوی کی مرضی سے بیوی کو اس کے میکے پہنچا دیا۔ اس وقت تک دونوں میں کوئی نا اتفاقی یا لڑائی جھگڑا نہیں تھا۔ صرف نافرمانی پر گاہے بگا ہے سمجھاتا رہتا ہے۔ اب کچھ عرصہ بعد زید نے اپنے سسرالیوں کے کسی عزیز اللہ ولد کے نام بذریعہ ڈاکخانہ خط لکھ کر بھیج دیا کہ میری بیوی نافرمان ہے۔ میں ایسی بیوی کو رکھنے کو تیار نہیں ہوں اور میں تین بار کہتا ہوں کہ: ”طلاق ہے۔ اب یہ بیوی حاملہ ہے۔ حمل جائز ہے، میکے پہنچانے سے قبل اور طلاق دینے سے قبل زید کو حاملہ ہونے کا علم نہیں تھا۔ طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر طلاق نہیں ہوئی تو کس طرح دی جائے ؟ اور اگر بیوی کو طلاق ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ فقط المستفتی: ظہیر احمد ادریسی ضلع بریلی شریف
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ عورت کو تحقیق ہے یا غالب من ہے کہ یہ خط اس کے شوہر کا ہی ہے، بائیں طور کہ وہ شوہر کا خط پہچانتی ہے خواہ کسی اور وجہ سے تو اس پر عدت لازم ہے کہ تین طلاقیں ہوگئیں اور عورت زید پرایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح کرے اور مشغول جماع ہو، پھر طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الآية } (۱) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) عدت مذکورہ عورت جو کہ حاملہ ہے، وضع حمل ہے۔ قال تعالى : { وَ أُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ } (۱) فقیر محمد اختر رضا خاں از ہری قادری غفرلہ