بیوی کو معلق رکھنا اور طلاق نہ دینے کا شرعی حکم
(1) زید نے شادی کر کے بیوی کو اپنے گھر لایا اور ایک دو روز میں زید کی بیوی اپنے میکے چلی گئی۔ اس کے بعد تقریباً ایک سال ہو گیا، اب لڑکا کہتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو کسی بھی حالت میں نہیں لاسکتا ہوں۔ اب گاؤں والے نے لڑکے سے پوچھا کہ نہیں لانے کی وجہ کیا ہے؟ تولر کا بولا کہ لڑکی میرے لائق نہیں ہے۔ یعنی خوبصورت نہیں ہے اور پھر گاؤں والوں نے پنچایت کی اور لڑکے سے پہنچ لوگوں نے پوچھا کہ کیوں نہیں لڑکی تم لاؤ گے؟ تو لڑ کا بولا کہ ہمیں لڑکی پسند نہیں ہے اگر آپ لوگوں کو ضد ہے تو میں لڑکی کو لے جاؤں گا لیکن پھر اس کو اپنے گھر نہیں رکھوں گا۔ اب اس حالت پر پہنچ نے کہا کہ بھائی آپ اس حالت پر جو کرنا ہوکر سکتے ہو اور کاغذ بھی لکھ کر دئے ہیں کہ جو شرعاً جائز ہو وہ آپ کر سکتے ہیں، اب اس بنا پر شرع کا کیا حکم ہے؟ فوراجواب سے مطلع فرما ئیں کیونکہ لڑکی بالکل بالغ ہے اور نکاح کی شدید ضرورت ہے اور لڑ کا طلاق بھی دینے سے انکار کرتا ہے۔ صحیح جواب سے مطلع فرمائیں ۔
الجواب: المستفتی : مولوی عبدالرؤف ، موضع و پوسٹ بلرامپور ضلع سرگوجه (ایم پی ) (۱) اگر وہ اپنی منکوحہ کو نہیں رکھنا چاہتا تو اس پر فرض ہے کہ اسے طلاق دے دے اور ادہر میں لٹکائے نہ رکھے کہ ظلم و گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم