شوہر کے انکار طلاق اور گواہ نہ ہونے کی صورت میں طلاق کا ثبوت نہیں ہوگا
ہندہ کہتی ہے کہ مجھے طلاق دے دی ہے شوہر انکار کرتا ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: اگر ہندو یہ کہتی ہے کہ میرے شوہر زید نے مجھے طلاق دی ہے اور زید یہ کہتا ہے کہ میں نے کب طلاق دی ہے؟ میں نے تو تجھے طلاق ہی نہیں دی، خواہ مخواہ جھوٹ کہتی ہو۔ اور نہ ہی کوئی گواہ ہے حتی کہ ہندہ کے ماں باپ بھائی و خویش و اقارب کوئی بھی نہیں بتا سکتے ہیں کہ طلاق دی ہے۔ بالکل غلط ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں طلاق ہو جائے گی ؟ تشفی بخش جواب مطلوب ہے اور لڑ کی یعنی ہندہ دوسری شادی کرنا چاہتی ہے تو کیا شریعت مطہرہ کے نزدیک شادی جائز ہے؟ جواب مرحمت فرمائیں! المستفتی: محمد حنيف
الجواب: شوہر جبکہ منکر ہے اور عورت طلاق یا اقرار طلاق پر گواہان شرعی نہیں رکھتی تو طلاق شرعاً ثابت نہ ہوگی اور عورت بدستور زید کی بیوی رہے گی اور دوسرا نکاح ہرگز حلال نہ ہوگا۔ پھر عورت اگر تین طلاق کی مدعیہ ہے تو اس پر لازم ہے کہ شوہر کو اپنے اوپر قابو نہ دے اور اس سے ایسی بھاگے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے در مختار میں ہے: ” فی البزازية قالت طلقنى ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ذلک اصرت عليه ام اکذبت نفسها ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الدر المختار، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج ۵، ص ۵۵، دار الكتب العلمية، بيروت