بیوی کے نافرمان ہونے اور تہمت لگانے کی صورت میں طلاق اور دوسری شادی کا حکم
۹رذوالحجہ ۱۴۰۰ھ عورت خلاف شرع چلے تو شوہر طلاق دے سکتا ہے یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید کی شادی کو ۱۵ ارسال ہو چکے، بچے بھی ہیں۔ زید کی بیوی شوہر پر ہمیشہ تہمت والزام لگاتی رہتی ہے کہ زید کے فلاں فلاں لڑکیوں سے ناجائز تعلقات ہیں اور دوسری بیوی رکھے ہوئے ہے جبکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ کافی صفائی پیش کرنے پر بھی وہ ماننے کو تیار نہیں ، آئے دن جھگڑا کرتی ہے اور موقع پا کر شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی مرضی سے گھر سے فرار ہو جاتی ہے۔ ایسا وہ کئی مرتبہ کر چکی ہے ۔ گھر سے نکلنے کے بعد کتنا وقت کہاں گزارتی ہے اس کا بھی کوئی علم نہیں ۔ موجودہ وقت میں وہ گھر سے بھاگ کر اپنے میکے ( شوہر کے گھر سے قریب ۱۲۰ کلومیٹر کی دوری پر ) ہے۔ اتنا لمبا سفر وہ اکیلی طے کرتی ہے یا کسی غیر کے ساتھ ، شوہر کو کوئی علم نہیں ہے۔ اس طرح سے دونوں میاں بیوی کے تعلقات بہت خراب ہو چکے ہیں کہ نباہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اس صورت میں زید کیا کرے؟ وہ طلاق دے سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ ایسی صورت میں پہلی بیوی کو اعتراض کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ المستفتی : یسین خاں ابن علی محمد خاں مقام و پوسٹ بڑاؤ ضلع جنجون (راجستھان)
الجواب: (1) زید کو اختیار ہے۔ صبر کرے اور صبر بہتر ہے اور اسے خلاف شرع باتوں سے حتی المقدور روکے کہ موجب اجر ہے اور چاہے تو طلاق دے دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کر سکتا ہے جبکہ ظلم وجور کا اندیشہ نہ ہو۔ ورنہ مکروہ تحریمی وممنوع و گناہ ہے۔
در مختار میں ہے: ”مکروها لخوف الجورفان تيقنه حرم ذلک (1) رد المحتار میں ہے: قوله (ومكروها) أى تحريما_بحر (۲) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله