طلاق بائن کے بعد مزید تین طلاقیں دینے کی صورت میں تینوں طلاقوں کے وقوع اور حلالہ کے بغیر نکاح کی ممانعت کا بیان
میرے خاوند فتح محمد خاں ولد مقبول خاں حال مقیم امتیار اضلع ٹونک راجستھان نے کچھ عرصہ پہلے طلاق بائن دی تھی ۔ اس صورت میں کہ میں میکہ ہی میں تھی۔ اس وقت یہ طلاق نامہ مجھے بھجوایا اس کے بعد، میں اپنے خاوند کے گھر دوسرے دن ہی چلی گئی اور اس سے معلومات کی کہ کیا واقعی آپ نے مجھے طلاق دی ہے؟ اس پر میرے خاوند نے اس وقت یہ الفاظ دہرائے کہ : ”ہاں! میں نے تجھے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی۔ اس طلاق کی مدت کو پانچ ماہ کا عرصہ گزر گیا ہے۔ کیا میں اپنے اسی مذکورہ خاوند سے بغیر حلالہ کے نکاح دوبارہ کر سکتی ہوں؟ یا نہیں؟ اور پر لکھے ہوئے واقعات کو سامنے رکھ کر ایک مفتی صاحب سے معلومات کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ شوہر نے طلاق بائن دی تو عورت نکاح سے باہر ہو گئی پھر دوبارہ شوہر کا تین طلاق دینا نکاح سے خارج شدہ عورت پر کوئی اثر نہیں ڈالتا ۔ عورت کو چونکہ طلاق بائن ہوئی ہے اور نکاح سے باہر ہو چکنے کے سبب اب اس پر دوبارہ طلاق کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ ان حالات میں یہ عورت طلاق دینے والے مرد سے نکاح کر سکتی ہے اور دونوں کا رشتہ زوجیت نکاح کرنے سے قائم ہو سکتا ہے۔ ان واقعات کے مدنظر آپ شرعی جواب تحریر فرمانے کا تکلف فرماویں۔ فقط والسلام! رئیسہ بیگم بنت رمضان خاں ٹھٹھیروں کی گلی، چوڑا راستہ، جے پور (راجستھان)
الجواب: صورت مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں اور آپ اپنے شوہر پر ایسی حرام ہوگئیں کہ جب تک بعد عدت دوسرے صحیح النکاح شوہر سے جماع ہو کر طلاق نہ ہولے اور عدت نہ گزر جائے آپ کا نکاح پہلے شوہر سے نہیں ہوسکتا۔ اور مضمون فتویٰ مذکور مندرجہ سوال غلط ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ فی الواقع صورت مسئولہ میں رئیسہ بیگم پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ۔ بائن کو صریح طلاق لاحق ہوتی ہے یعنی بائن طلاق دے کر عدت کے اندر صریح طلاق دے تو صریح لاحق ہوگی اور دونوں کو شمار کیا جائے گا۔ در مختار میں ہے: "الصريح يلحق الصريح ويلحق البائن بشرط العدة (1) واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف