شراب کے نشہ میں دی گئی تین طلاقوں کے وقوع کا حکم
میں نے نسیمہ کو طلاق دی تین بار کہا تو کتنی طلاقیں ہوئیں؟ جناب قبله مولوی صاحب ، شہر بریلی دام اقباله ! حسب ذیل مسئلہ قصبہ آنولہ ضلع بریلی کے بارے میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں کہ: ایک شخص اپنے گھر پر شراب پی کر آیا اس کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی میکہ میں ہے، وہ اپنی سسرال میں گیا اور اپنی بیوی اور خسر کو بڑی بڑی گالیاں دیں اور یہ کہا کہ : ”میں اپنی بیوی نسیمہ کو طلاق دینے آیا ہوں، میں خدا کو شامل کر کے یہ کہہ رہا ہوں کہ میری بیوی شبیر کی لڑکی جس کا نام نسیمہ ہے، میں نے نسیمہ کو طلاق دی، میں نے نسیمہ کو طلاق دی، میں نے نسیمہ کو طلاق دی۔ ۳ مرتبہ کہا ،لڑکی کے چچا جس کا نام بنو ہے، دوسری بچی جس کا نام معلوم نہیں، یاد آ گیا ریاضی نام ہے اور محلہ کے آس پاس کی عورتیں موجود تھیں۔ مرسله: شبیر احمد قصبه آنوله محله انوپ پوره ضلع بریلی
الجواب: صورت مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت اس مرد پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ بعد جماع جب طلاق دے دے تو عدت کے بعد عورت چاہے تو پہلے سے نکاح کرلے۔ قال تعالى: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک در مختار میں ہے: ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل أو سكران ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجراً ، به یفتی تصحیح القدوری-ملتقطا واللہ تعالیٰ اعلم محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ