اگر شوہر طلاق کا منکر ہو اور عورت مدعیہ تو کیا حکم ہے
سوال
ایسی صورت میں عورت کو مرد کے گھر بھیجا جائے یا پھر سے نکاح کیا جائے؟ لہذا مہر بانی فرما کر اس مسئلہ سے آگاہ فرمائیے ۔ مہربانی ہوگی المستفتی: کمترین محمد گلزار قریشی ، فتح پور
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: شوہر جبکہ طلاق کا منکر ہے اور عورت دعوی طلاق پر گواہان شرعی نہیں رکھتی تو طلاق ثابت نہیں البتہ عورت اگر تین طلاق کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو خود پر قابو دے، بلکہ اسے لازم ہے کہ شوہر سے دور رہے۔ در مختار میں ہے: ” فی البزازية قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ذلک اصرت علیه ام اكذبت نفسها ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۸/ جمادی الآخر ه ۱۴۰۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۴۴۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
شوہر کا طلاق دے کر مکر جانا اور گواہ نہ ہونے کی صورت میں شرعی حکم
باب: کتاب الطلاق
نوٹس میں لفظ طلاق سمجھو لکھنے سے طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق
شراب کے نشہ میں دی گئی تین طلاقوں کے وقوع کا حکم
باب: کتاب الطلاق
بیوی کی عدم موجودگی میں طلاق کے الفاظ کہنے کا حکم
باب: کتاب الطلاق
طلاق بائن کے بعد مزید تین طلاقیں دینے کی صورت میں تینوں طلاقوں کے وقوع اور حلالہ کے بغیر نکاح کی ممانعت کا بیان
باب: کتاب الطلاق