نوٹس میں لفظ طلاق سمجھو لکھنے سے طلاق کا حکم
نے نوٹس میں صاف لکھ دیا کہ : ” آپ پندرہ دن کے اندر اندر مع زیور اور کپڑوں کے جو آپ میرے یہاں سے لے گئی ہو، لے کر چلی آؤ اگر آپ پندرہ دن کے اندر نہیں آئیں تو طلاق سمجھو اور اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ اس کے باوجودلڑ کی اپنے گھر سے نہیں آئی۔ تو ایسی صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق ہوگئی یا نہیں؟ اگر طلاق واقع بھی ہوگئی تو کون ذمہ دار ہوگا ؟ زید یا لڑکی؟ کیونکہ لڑکے نے پندرہ دن کا موقع دیا تھا تولڑ کی کیوں نہیں آئی ؟ اگرلڑ کی اس طلاق کی ذمہ دار ہے تو یہ ضلع ہوا یا نہیں؟ اور اگر بحکم شریعت ضلع ہوا توضلع کا کیا حکم ہے؟ فقط والسلام! المستفتی: محمد اشفاق صدیقی ساکن بہیری ضلع بریلی شریف
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر واقعی شوہر نے یہ لکھا کہ ”طلاق سمجھو تو طلاق نہ ہوئی۔ کنز و ہندیہ میں ہے: ”ولو قال داده انکار و کردہ انکار لا يقع به وان نوئ ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله