شوہر کے طلاق نامے کے انکار اور تحریر سے طلاق کے ثبوت کا شرعی حکم
ہندہ کا نکاح بکر سے ہوا۔ چند سال کے بعد بکر نے ہندہ کو طلاق دی، مگر بکر نے جس طرح طلاق دی وہ اس طرح کہ بذریعہ پوسٹ طلاق نامہ لکھ کر بھیج دیا۔ طلاقنامہ میں اس طرح کے الفاظ ہیں کہ: شکیلہ ! ہم نے تم کو طلاق دی، شکیلہ ! ہم نے تم کو طلاق دی، شکیلہ ! ہم نے تم کو طلاق دی“۔ شکیلہ ہندہ کا نام ہے۔ یہ جملے طلاق کے لکھ کر بعد میں یہ لکھتا ہے کہ اگر تم اتنا جہیز کا سامان لے آؤ، جتنا کہ تمہارے باپ نے تمہاری بڑی بہن کو دئے ہیں تو تم کو ہم گھر میں رکھ سکتے ہیں، طلاق نامہ ملنے کے بعد ہندہ کے والد نے جب معاملہ سمجھنا چاہا تو بکر نے صاف انکار کر دیا۔ یہ طلاق نامہ ہمارا لکھا ہوا نہیں ہے۔ ہندہ تصدیق کر رہی ہے کہ یہ تحریر طلاق نامے کی بکر ہی کی ہے۔ غرض یہ کہ طلاق ہوئی کہ نہیں؟ جو بھی شکل ہو از روئے شرع حکم نافذ فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔ آپس میں نزاعی کیفیت بڑھ چکی ہے۔ اگر سر کار جلد جواب مرحمت فرمائیں تو ہوسکتا ہے کہ آپس میں سدھار کی شکل پیدا ہو جائے۔ المستفتی: امام علی چکی والے تحصیل روڈ سلون شریف ضلع رائے بریلی ، (یوپی)
الجواب: صورت مسئولہ میں شوہر جبکہ طلاق سے منکر ہے، اور شرعی گواہان مفقود ہیں تو محض اس تحریر سے طلاق کا ثبوت نہ ہوگا۔ ہدایہ میں ہے: الكتاب لا يعمل به لان الخط يشبه الخط (1) البتہ عورت اگر دعوی کرتی ہے کہ یہ تحریر اس کے شوہر کی ہے تو اسے حلال نہیں کہ اسے اپنے اوپر قابودے، بلکہ اسے لازم ہے کہ شوہر سے دور بھاگے۔ در مختار میں ہے: ” فی البزازیة قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزويج نفسها منه ليس لها ذلک اصرت علیه اماکذبت نفسها “(۲) (1) الهداية، كتاب الشهادة ، ج ۲، ص ۱۴۲ ، مجلس برکات (۲) الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج ۵، ص ۵۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت اور اب شوہر کو چاہئے کہ طلاق دے کر بیوی کو چھوڑ دے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ