دو طلاق رجعی کے بعد رجعت کا مسنون طریقہ
کی بیوی میکے سے سسرال آگئی تو زید کا کہنا ہے کہ میری بیوی اور میری سالی رکشہ پر بیٹھی تھی اور ز کی رکشہ کے پیچھے سائیکل پر تھا، میں نے خود دیکھا اور میری سالی کو ز کی خود واپس لے گیا۔ اب زید نے اپنی بیوی کا نام لے کر یہ کہا کہ تم اپنا برقع اٹھاؤ میں نے تم کو طلاق دی۔ اسی طرح سے دو بار کہا۔ زید کی والدہ کہتی ہے کہ تین بار کہا۔ بکر اسکے رشتے کا بھائی ہے جس کے سامنے طلاق دی ہے۔ حامد حسین گواہ نمبر (۱) گواہ نمبر (۲) : پیارے لمستفتى : عبدالحميد مسجد نداف ، ملوکپور، بریلی
اگر واقعہ یہ ہے کہ زید نے دو طلاقیں دی ہیں تو دور جعی طلاقیں واقع ہوگئیں ۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے، جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گار مردوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۱ رذی الحجہ ۱۴۰۱ھ