دل میں طلاق کی نیت کرنے اور معلق طلاق کے وقوع کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : زید نے دلکولہ جاتے ہوئے عمرو سے کہا کہ ہم رخصت کے لئے آئے تھے تو ہم نے اپنے دل میں کہا تھا کہ ہماری بیوی اگر ہمارے ساتھ نہیں جائے گی تو اس پر ایک طلاق ( جبکہ رخصتی کے لئے آیا تھا تو رخصتی یعنی ان کی بیوی ان کیساتھ نہیں گئی تھی ) کچھ دنوں کے بعد زید نے اپنی بیوی ہندہ سے کہا کہ ہم تم کو ایک طلاق رجعی کے بارے میں جو گمان کئے تھے سو ہم تم سے آج لوٹا لئے ، وہ اپنی خوشی سے کہی کہ ٹھیک ہے۔ پھر دو تین ماہ کے بعد جب زید اپنی سسرال آیا تو اپنی بیوی ہندہ سے کہا کہ اگر تم ماں باپ بھائی بہن کے علاوہ کسی اور سے بولوگی تو تم پر دو طلاقیں ہو گئیں اور ہندہ لوگوں سے کچھ دیر بعد ہی بول دی۔ در یافت
طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت میں زید کی بیوی ہند و پر کونسی طلاق واقع ہوئی ؟ اس پوری تحریر کازید قاتل ومقر ہے۔ ایک مجمع میں اقرار کرتے ہوئے دستخط کر دیا ہے (نوٹ): مذکورہ بالا استفتاء کا جواب مفتی ریاض احمد صاحب نے رضوی دارالافتاء بریلی شریف سے اور تنظیم المسلمین باکسی پورنیہ اور اصلاح المسلمین باکسی پورنیہ نے دو طلاق رجعی کا حکم دیا ہے جبکہ دارالافتاء منظر اسلام سے طلاق مغلظہ کا حکم آیا ہے۔ اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ اپنے جواب پر نظر ثانی کریں۔ یہی خط دار الافتاء کو بھی لکھا گیا ہے۔ فقط المستفتی: عبدالرحمن متوطن ملا ہٹولی ، پاکسی، پورنیہ (بہار) الجواب: فی الواقع صورت مسئولہ میں دور جعی طلاقوں کا حکم ہے۔ ”ہم نے اپنے دل میں کہا تھا۔ الخ سے طلاق نہ پڑے گی منظر اسلام کے فتوے میں سہو واقع ہوا۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ رذی الحجہ ۱۳۹۸ھ