جعلی خط کے ذریعے بھیجی گئی طلاق کا حکم
سوال
نے کسی سے لکھوایا ہے اور نہ ہی مجھے اس غلط خط کے بارے میں کوئی علم ہے جو ہندہ کے نام طلاقنامہ کی شکل میں آیا ہے۔ زید قسم کھا کر کہتا ہے کہ مجھے اس خط کا جو طلاق نامہ کی شکل میں ہندہ کے نام آیا ہے،اس کا کوئی علم نہیں ہے۔ کسی نے دشمنی میں ایسا کیا ہے۔ خدا میری مدد کرے۔ آمین ۔ از روئے شرع اس خط کے بارے میں حکم شرع نافذ فرمائیں۔ لمستفنى محمد ولی ولد نواب جان صاحب کتب خانه، بریلی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے جو درج سوال ہوا تو طلاق واقع نہ ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم مفتی کا کام اظہار حکم شرع ہے نہ کہ از خود کوئی حکم پیدا کرنا حکم اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کا ہے، جھوٹ بولنے سے حرامِ خدا حلال نہ ہوگا بلکہ دروغلوئی سے وبال بڑھے گا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۷/ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۴۶۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
کسی دوسرے شخص کی طرف سے بھیجے گئے جعلی طلاق نامہ کا حکم
باب: کتاب الطلاق
حالت حمل میں تین طلاق مغلظہ کے بعد نکاح کے لیے حلالہ کی ضرورت
باب: کتاب الطلاق
دل میں طلاق کی نیت کرنے اور معلق طلاق کے وقوع کا حکم
باب: کتاب الطلاق
کچہری کی طلاق شرعاً کوئی چیز نہیں!
باب: کتاب الطلاق
دو طلاق رجعی کے بعد رجعت کا مسنون طریقہ
باب: کتاب الطلاق