کچہری کی طلاق شرعاً کوئی چیز نہیں!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی عورت حاملہ ہے قریب چار ماہ کی زید کی خوش دامن نے زید سے کہا کہ میری لڑکی کو طلاق دے دو ورنہ میں کچہری سے طلاق لے لوں گی۔ زید نے کہا تم کچہری سے طلاق لے لو، میں نہیں دوں گا۔ اس کا جواب عنایت فرمانے کی زحمت گوارا فرمائیں!
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: المسلطانی جمیل احمد، شهر کردند، بریلی شریف وہ طلاق کیوں مانگتی ہے؟ کچہری کی طلاق شرعا کوئی چیز نہیں۔ طلاق کا اختیار شوہر کو ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۴۶۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
حالت حمل میں تین طلاق مغلظہ کے بعد نکاح کے لیے حلالہ کی ضرورت
باب: کتاب الطلاق
تحریری طلاق نامہ پر دستخط اور طلاق رجعی کے وقوع کا حکم
باب: کتاب الطلاق
جعلی خط کے ذریعے بھیجی گئی طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق
تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کی ممانعت کا بیان
باب: کتاب الطلاق
کسی دوسرے شخص کی طرف سے بھیجے گئے جعلی طلاق نامہ کا حکم
باب: کتاب الطلاق