شوہر کے رخصتی نہ کرنے اور طلاق نہ دینے کی صورت میں عورت کے لیے شرعی حکم
شوہر نہ رکھتا ہے نہ چھوڑتا ہے تو عورت کو کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علماء الکرام مسئلہ ذیل میں کہ: زید کی لڑکی ہندہ کا نکاح بکر کے ساتھ ہوا یعنی بتاریخ ۱/۲۹ پریل ۱۹۷۴ء کو ہوا تھا جس کو عرصہ چھ سال کا گزرا۔ اس تاریخ تک نہ اپنے گھر رخصت کر کے لے گیا نہ رخصتی کرنا چاہا۔ متعدد بار کہا گیا، جواب ملا یعنی گھر والے نے کہا ہم لوگوں کو اس لڑکے سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لڑکا شرابی ، جواری اور بُرے افعال میں ملوث رہتا ہے۔ چند بارلڑکے سے بھی کہا گیا لڑکے نے جواب دیا کہ نہ مجھے رخصتی کرنی ہے نہ طلاق دینی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ لڑکی کے والد بستر مرگ پر ہیں ۔ اس لڑکی کے غم میں جاں بلب اور لڑکی کا کوئی سہارا بھی نہیں۔ ایسی صورت مسئلہ میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ مصدق و گواہان کے اسماء یہ ہیں : (۱) طفیل احمد صاحب (۲) محمد یوسف صاحب (۳) عبدالجبار صاحب المستفتی: عبدالرحمن محمله منلو، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: بے طلاق وانقضائے عدت کوئی چارہ کار نہیں۔ جس صورت بنے، اس سے طلاق کہلوائی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء،منظر اسلام، بریلی شریف ۱۹ صفر المظفر ۱۴۰۱ھ