تحریری طلاقِ بائن کے بعد دوبارہ اقرارِ طلاق اور تجدیدِ نکاح کی شرعی حیثیت
۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۱ھ ایک الجھے سوال پر بتقدیر سوال جواب ! بخدمت جناب مفتی صاحب، مقام بریلی شریف عرض حال یہ ہے کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ کو طلاق بائن بمعرفت تصدیق شہر قاضی تحریری میکہ میں ارسال کیا، اس کے بعد اس نے سسرال آکر اپنے خاوند سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے مجھے طلاق دے دی ؟ تو شوہر نے کہا کہ ہاں میں نے طلاق دے دی۔ اس پر جے پور کے مفتی صاحب نے ظاہر کیا کہ ایک طلاق بائن ہو چکی، اس کی عورت نکاح سے باہر ہو کر غیر ہوگئی ، اگر غیر عورت کے پوچھنے پر خاوند نے کہہ دیا کہ ہاں میں نے تجھے طلاق دے دی تو وہ غیر کو طلاق دینے کا دوبارہ حق نہیں رکھتا اور ایک بار پہلی طلاق بائن جو ہو چکی اس کے بعد ہزار ہی طلاق کیوں نہ دئے جائیں، بے وزن ہیں۔ پہلی طلاق ہی مانی جائے گی۔ چنانچہ طلاق بائن میں خاوند کی رضا مندی پر دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ اس کے تحت زید نے اپنی طلاق شدہ عورت سے دوبارہ نکاح کر لیا ہے، جو شرعی طور پر درست ہے یا نہیں، اگر خلاف شرع نکاح ہوا ہے تو اب وہ کیا کرے؟ از راہ کرم مناسب شرعی حکم سے مطلع فرماویں! المستفتی: فتح محمد خاں، پٹواری ٹکٹ دھرم شالہ (اسکول ) لب سڑک لوڑ گیٹ، پوسٹ اینارہ کلاں ضلع ٹونک (راجستھان )
الجواب: سائل نے یہ نہ لکھا کہ زید نے کسی لفظ سے طلاق دی اور کتنی طلاقیں دیں۔ اگر زید تین طلاقیں بہ لفظ صریح دے چکا ہے تو اسے اس سے نکاح حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ