کسی سے پوچھ کر طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: زید نے بکر سے کہا کہ تو اپنی بیوی کو طلاق دیدے، بکر نے جواب دیا، میں طلاق دینا نہیں چاہتا اور نہ الفاظ معلوم ہیں کہ کیسے طلاق ہوتی ہے، تو زید نے کہا کہ جیسا میں کہتا ہوں تو میرے پیچھے پیچھے کہتا جا، تمام آدمیوں کے سامنے زید اور بکر دونوں نے یہ الفاظ دہرائے کہ: ”میں نے اپنی عورت کو طلاق دی ۔ یہ الفاظ زید نے دومرتبہ پڑھے، بکر بھی ویسے ہی کہتا گیا۔ ایسی صورت میں ان دونوں کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ فقط ۔ والسلام ! المستفنى محمد یعقوب قادری، موضع بھکاری پور ضلع پیلی بھیت
الجواب: صورت مسئولہ میں بکر کی بیوی پر دور جعی طلاقیں واقع ہوگئیں اگر ایک پہلے نہ دی ہو تو عدت میں رجعت کا اختیار ہے جس کے لئے مسنون یہ ہے کہ دو مرد عادل کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی اسے اپنے نکاح میں واپس لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳/ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم/ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی