شوہر کے انکارِ طلاق اور گواہوں کی بنیاد پر طلاق کے ثبوت کا مسئلہ
تحقیق و تفتیش دربھنگہ جانے والوں سے اور اس کی بہن کی گفتگو سے اور خود زلیخا کے دعویٰ طلاق سے کرتے ہوئے مطلقہ مان کر اس کا نکاح دوسرا موضع پو پری کے ایک شخص محمد حبیب کے ساتھ پڑھادیا۔ جس کو ایک ماہ ہو رہا ہے۔ زلیخا کے نکاح کے بعد براتی خان نے مولانا واجد علی کے پاس جا کر یہ کہا کہ ہم نے زلیخا کو طلاق نہیں دی ہے، اسے زمانے تک ہم غصہ سے چھوڑے ہوئے تھے۔ مولانا واجد علی نے ایک تاریخ مقرر کر کے لوگوں کو جمع کرایا، ہم لوگ پوکھریرا امدرسہ رحمانیہ حامدیہ گئے، براتی خان کو بھی کسی طرح لایا گیا اس سے طلاق و نکاح کے سلسلہ میں گفتگو کی گئی ، وہاں بہت سے لوگ موجود تھے جنہیں طلاق کا علم دوسرے سے سن کر تھا اور وہ بھی تھے جن سے دربھنگہ کے عرس کے موقع پر براتی نے طلاق کا ذکر کیا۔ مولانا موصوف نے ان لوگوں سے ہر طرح پوچھ تاچھ کی اور وہ لوگ جواب دیتے رہے ۔ آخر میں مولانا نے فرمایا کہ آپ لوگ قرآن شریف اٹھائیں گے کہ براتی خان نے آپ لوگوں کے نزدیک طلاق کا ذکر کیا ؟ اس بات پر بھی یہ لوگ تیار ہو گئے۔ مگر مولانا سلیمان صاحب نے فورا رخ بدل کر یہ کہا کہ ہرگز ہرگز آپ لوگوں کی بات نہیں مانی جائے گی اور نہ زلیخا کی ، نہ بہن کی مانی جاسکتی ہے اور نہ ہی زلیخا کا دعوی صحیح سمجھا جائیگا بلکہ یہ نکاح درست نہ ہوا ۔ مولانا ابرار الحق اپنی تشفی کے لئے بریلی شریف سے فتویٰ منگا لیں ۔ تو کیا حکم ہوتا ہے؟ لہذا مہر بانی فرما کر شریعت مطہرہ کا جو حکم ہے، اس بات کو مدلل تحریر فرما کر مشکور فرمائیں۔ المستفتی: ابرار احسن مدرس مدرسه رحمانیه حامد به موضع پوکھر میرا، وایه نانپور ضلع سیتا مڑھی (بہار)
الجواب: ثبوت طلاق عورت یا نری عورتوں کے بیان سے نہیں ہوتا اس لئے ضروری ہے کہ شوہر اقرار کرے یا در حالت انکار شوہر دو مرد عادل متقی پرہیز گار یا ایک مرد اور دو عورت عدول کی گواہی ضروری۔ صورت مسئولہ میں شوہر نے اگر اقرار دو مرد عادل یا ایک مرد دو عورت عدول سے یا بار بار چند افراد سے اقرار طلاق کیا کہ وہ سب ملکر جمع کثیر ہوں گے تو اس کے اقرار سے طلاق ثابت یا مؤثر ہے اور ظاہر بھی یہی صورت۔ دیگرے اس لئے کہ اس نے متعدد افراد سے جیسا کہ سوال میں درج ہے اقرار طلاق کیا تو اس کا اقرار متواتر ہوگا۔ لہذا زلیخا نے جو نکاح ثانی کیا، وہ صحیح ہے جبکہ بعد انقضائے عدت کیا ہو اور کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ اب جمع کثیر سے طلاق سن کر ابطال نکاح کا حکم نہ دیں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله