حلالہ کا طریقہ، شوہر ثانی کی طلاق کے بعد عدت کا مقام اور نان و نفقہ کے احکام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: (1) ناہدا اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے چکا ہے اور اب پھر اپنے نکاح میں لانا چاہتا ہے، کس طرح حلالہ کرا کے اپنے نکاح میں لائے؟ حلالہ کے لئے حیلہ شرعی بیان فرما کر مشکور فرمائیں۔ (۲) شوہر ثانی کے طلاق دینے پر مطلقہ عدت کہاں گزار سکتی ہے؟ اپنے گھر یا شوہر ثانی کے گھر؟ شوہر ثانی پر حد شرعی کتنا مہر واجب ہونا چاہئے؟ اور نان و نفقہ کس کے ذمہ ہے؟ (۳) شوہر ثانی نے طلاق دی ، دوران عدت اگر آثار حمل ظاہر ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ از روئے شرع جواب مرحمت فرما کر ممنون فرمائیں المستفتی: محمد مختار رضوی کلکتہ - ۲۳
الجواب: (1) دوسرے سے بعد عدت نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع جب طلاق دے دے تو عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرلے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) عدت شوہر ثانی کے یہاں گزار یگی اور نان و نفقہ عدت کا بذمہ شوہر ثانی اور مہر جو فریقین میں طے پایا جائے، بشرطیکہ دس درہم ( جس کا وزن دوروپے بارہ آنے ۳/۵-۹ر پائی بھر چاندی ہے) سے کم نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) عدت وضع حمل قرار پائینگی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ور جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء، منظر اسلام،سوادا گران، بریلی شریف